تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 551 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 551

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۵۰ تعطیل جمعہ کی تحریک اور کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجزوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سنگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر اور جب یہ دعا فریق ثانی کر چکے تو دونوں فریق کہیں کہ آمین 1 اس کے ساتھ ہی حضور نے یہ شرط بھی درج فرمائی کہ ”میری بددعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جارے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آدیں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی نہ کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کا ذب سمجھوں گا۔اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔اور اگر میں مرگیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اور آرام ہو جائے گا۔حضرت اقدس نے یہ دعوت باقاعدہ مطبوعہ شکل میں تمام مشہور علماء اور سجادہ نشینوں کو بذریعہ رجسٹری ارسال فرمائی۔اور ان کے ناموں کی لمبی فہرست دے کر آخر میں یہ بھی احتیاطاً لکھا کہ ان حضرات میں سے اگر اتفاقا کسی صاحب کو یہ رسالہ نہ پہنچا ہو تو وہ اطلاع دیں تا دوبارہ بذریعہ رجسٹری بھیجا جائے۔اس دعوت کے بعد آپ نے علماء و مشائخ کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی کہ ان میں سے ہر شخص اپنے ہاں بیٹھے بٹھائے اشتہارات کے ذریعہ سے بھی مباہلہ کر سکتا ہے۔لیکن افسوس کہ اس درجہ سہولت اور غیرت دلانے والے الفاظ کے باوجود حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف اور حضرت پیر صاحب العلم سندھ کے سوا کوئی شخص ایسا نہ نکلا جو کھلم کھلا حضور کی تصدیق کرتا۔دعوت مباہلہ مجسم نشان کی حیثیت اختیار کر گئی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی دعوت میں لکھا تھا۔کہ میں مباہلہ میں دعا کروں گا کہ "اے علیم و خبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں اور تیرے منہ کی باتیں ہیں تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں۔ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی بار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔" اور گو مباہلہ کی نوبت نہیں آئی۔لیکن یہ عجیب کرشمہ قدرت ہے کہ آپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ بے اثر ثابت نہیں ہوئے۔بلکہ جو معاند علماء یا گدی نشین اپنی مخالفت پر بدستور قائم رہے انہیں اپنے جرم کی پاداش میں ان سزاؤں میں سے کسی نہ کسی سزا کو ضرور بھگتنا پڑا۔چنانچہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی پہلے اندھے ہوئے پھر سانپ کے