تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 528
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۲۷ تین عظیم الشان علمی انکشافات کپڑے میں نقش کر دیئے۔اور صحیح کا تازہ خون کپڑے میں جذب ہو کر نشان بن گیا۔کانٹوں کا تاج پہننے اور گدی پر جو نشانات آئے۔صحیح کا متورم دایاں کلہ۔دائیں پہلو پر بھالے کا گہرا نشان کیل کے زخموں سے نکلے ہوئے خون کے نشان کمر پر صلیب کی رگڑ کے نشان یہ سب چیزیں فوٹو میں دیکھی جاسکتی ہیں۔مگر سب سے تعجب انگیز حقیقت یہ ہے کہ منفی فوٹو نے مسیح کی بند آنکھوں کو دو کھلی آنکھوں میں ظاہر کیا ہے۔تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ کیل ہتھیلی میں نہیں بلکہ کلائی کے مضبوط جوڑوں میں لگائے گئے تھے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بھالے نے مسیح کا دل ہر گز نہیں چھوا۔بائیل کہتی ہے کہ مسیح نے جان دیدی۔مگر سائنسدان مصر ہیں کہ دل نے عمل کرنا بند نہیں کیا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک گھنٹہ تک مسیح کے بیجان لٹکے رہنے سے خون خشک ہو کر ختم ہو جانا چاہیے تھا۔اور اس صورت میں خون ہر گز کپڑے میں نہ آتا۔مگر کپڑے کا خون جذب کرنا بتاتا ہے کہ مسیح صلیب پر سے اتارے جانے کے وقت زندہ تھے"۔(ترجمہ) صحیح کے آسمان پر جانے کی انجیلی آیات الحاقی ثابت ہو ئیں مذہبی تعلیمات کی بین الاقوامی مسیحی " سوسائٹی کی طرف سے بائیل پر نظر ثانی کی غرض سے ۱۹۲۹ء میں امریکہ میں اعلیٰ سطح کا ایک مستند ترین ادارہ قائم کیا گیا۔جس میں دنیا کے تیس مسیحی فاضل محققین نے کام کیا۔یہ محققین وسیع پیمانے پر ریسرچ کرنے اور برسوں کی محنت شاقہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضرت مسیح کے آسمان پر جانے کے متعلق آیات الحاقی ہیں۔جس پر یہ آیات انجیل کے متن سے خارج کر دی گئیں۔بائیبل کا یہ مستند نسخہ جو "Revised Standard Version" کے نام سے مشہور ہے نیو یارک سے تھامسن نیلسن اینڈ سنز نے شائع کیا ہے۔اس نئے ایڈیشن نے عیسائیت کے تمام حلقوں میں صف ماتم بچھادی ہے۔چنانچہ پاکستان کے بعض مسیحی لیڈروں نے نہایت خوفزدہ ہو کر لکھا ہے کہ۔مترجمین کے سامنے ایک ہی مقصد تھا کہ جہاں تک ہو سکے کلام مقدس میں سے وہ تمام آیات حذف کر دی جائیں جن سے خداوند یسوع مسیح کا بجسم الوہیت کفارہ مردوں میں سے زندہ ہونا اور آسمان پر صعود فرمانا ثابت ہوتا ہے تاکہ خداوند یسوع مسیح کی دوبارہ آمد مشکوک ہو جائے اور خداوند کو وہی حیثیت حاصل رہے جو دوسرے انبیاء کو حاصل ہے۔اور انہوں نے اس طرح خداوند مسیح کی الوہیت اور پاکیزگی اور فوق البشر ہونے کا انکار کیا ہے اور یہ ایک ایسی مذموم جسارت ہے کہ اس کی موجودگی میں مسیحیت کی ساری عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے“۔(ماہنامہ "کلام حق" گوجرانوالہ بابت اپریل ۱۹۷۸ء صفحہ ۷) یہ تو حضرت مسیح کے صلیب سے زندہ اتر آنے اور آسمان کی بجائے کسی دور کے سفر پر روانہ