تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 510 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 510

تاریخ احمدیت۔جلد ۵۰۹ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے پارلیمنٹ کے ممبر بلکہ گورنر جنرل تک اپنا عہدہ سنبھالتے وقت قسم اٹھاتے ہیں۔ایک سال کا یقینی اور قطعی وعدہ اور آتھم صاحب کی ہلاکت اس اشتہار میں حضرت اقدس نے آتھم صاحب پر آخری بار اتمام حجت کر کے صاف لفظوں میں انہیں خبر دی کہ اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔اور اگر قسم نہ کھا دیں۔تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اختفاء کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا۔لیکن آتھم صاحب نے قسم نہ کھائی اور آخر ۷ ۲- جولائی ۱۸۹۶ء کو فیرزو پور میں وفات پاگئے۔اور اسلام کی فتح کا ایک اور زبردست نشان ظاہر ہوا۔جس کا ایک عجیب پہلو یہ تھا کہ حدیث میں پہلے سے اسلام اور عیسائیت کے اس معرکہ کی خبر موجود تھی۔چنانچہ لکھا تھا۔"يُنَادِی مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنَّ الْحَقِّ فِي الِ مُحَمَّدٍ وَيُنَادِى مِنَ الْأَرْضِ أَنَّ الْحَقِّ فِي الِ عِيسى۔۔۔إِنَّمَا الْأَسْفَلُ كَلِمَةُ الشَّيْطَانِ وَالصَّوْتُ الأعلى كَلِمَةُ اللَّهِ الْعُلْيَا۔یعنی آسمان سے پکارا جائے گا حق محمد ﷺ کے متبعین میں ہے مگر زمین سے پکارا جائے گا کہ حق عیسی کے متبعین میں ہے مگر یا د رکھو جو زمین کی طرف سے آواز آئے گی۔وہ شیطانی آواز ہے اور جو اوپر سے آواز آئے گی وہ اللہ تعالی کا کلمہ ہے جو ہمیشہ بلند ہے۔آتھم صاحب کی موت کے بعد حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کے سامنے کسی نے اعتراض کیا کہ آتھم میعاد کے بعد مرا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام لے کر فرمایا کہ اس بات کی کیا پروا ہے میں جانتا ہوں کہ آ تم انہی کی دعا سے مرا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اہم پیشگوئی کی وضاحت کے لئے تین مستقل تصانیف فرما ئیں۔انوار الاسلام"۔ضیاء الحق" اور "انجام آنقم " ان کتابوں کی اشاعت بالترتیب ستمبر ۱۸۹۴ء مئی ۱۸۹۵ء اور جنوری ۱۸۹۷ء میں ہوئی۔عیسائیوں کی عالمی کانفرنس میں تحریک احمدیت کے بارے میں انتہائی تشویش کا اظہار یہ معرکہ گو ہندوستان میں ہوا تھا مگر اس نے دنیا بھر کے عیسائی لیڈروں کو شدت محسوس کروا دیا کہ عیسائیت کے خلاف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کرنے والی ایک زبر دست