تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 509
تاریخ احمدیت جلدا ۵۰۸ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے حضرت خواجہ غلام فرید صاحب یہ زمانہ تاریخ احمدیت میں ایک بڑا ہی نازک زمانہ تھا جسے بشیر اول کی وفات پر اٹھنے والی چاچڑاں شریف کا ایمان فروز جواب مخالفت کے بعد اپنی نوعیت کارو سرا خطر ناک ابتلاء قرار دیا جانا چاہیے۔لیکن اس نشان سے اہل اللہ کے ایمان میں اور بھی اضافہ ہوا۔چنانچہ انہیں ونوں نواب صاحب بہاولپور (نواب صادق محمد خاں صاحب) کے دربار میں حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کا ذکر چھڑ گیا اور مصاحسین نے کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب نے آتھم کی موت سے متعلق جو پیشگوئی کی تھی وہ جھوٹی نکلی۔یہ ہنسی اور مذاق دیر تک ہوتا رہا یہاں تک کہ اس میں خود نواب صاحب بھی شریک ہو گئے اور کہا کہ واقعہ میں یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔یہ سنا تھا کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف جو نواب صاحب موصوف کے پیرو مرشد تھے۔اور دیر سے خاموش بیٹھے یہ سب کچھ سن رہے تھے۔جوش میں آگئے اور فرمانے لگے ”کون کہتا ہے کہ آتھم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش نظر آرہی ہے "۔TA حضرت مسیح موعود حضرت مسیح موعود کی طرف سے آتھم صاحب کو انعامی چیلنج علیہ السلام نے جب اسلام کی اس شاندار فتح پر ظالمانہ طور پر تکذیب ہوتے دیکھی۔تو آپ نے ۹۔ستمبر ۱۸۹۴ء کو عبد اللہ آتھم صاحب کو چیلنج دیا۔کہ اگر اس عرصہ میں اس پر اسلام کی ہیبت طاری نہ ہوئی۔اور وہ ٹیکسٹ کے عقیدہ سے ذرہ بھر بھی متزلزل نہیں ہوا۔اور اس نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا۔تو وہ قسم اٹھا دے اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔۲۰ ستمبر ۱۸۹۴ء کو آپ نے دس ہزار کی تعداد میں ایک اور اشتہار کے ذریعہ سے یہ انعامی رقم دو چند کر دی اور لکھا کہ یہ تو دو خداؤں کی لڑائی ہے اب وہی غالب ہو گا۔جو سچا خدا ہے جب کہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کی یہ ضرور قدرت ظاہر ہوگی کہ اس قسم والے برس میں ہم نہیں مریں گے لیکن اگر آتھم صاحب نے جھوٹی قسم کھالی تو ضرور فوت ہو جائیں گے۔اس اشتہار کے بعد حضرت اقدس نے ۵- اکتوبر ۱۸۹۴ء کو ایک اور اشتہار شائع کیا۔جس میں انعامی رقم تین ہزار کر دی اس کے بعد حضور نے ۲۷- اکتوبر ۱۸۹۴ء کو ایک اشتہار میں انعامی رقم چار ہزار روپیہ تک بڑھا دینے کا اعلان کر دیا۔عیسائیوں نے قسم کے مطالبہ کے جواب میں نہایت شکست خوردہ ذہنیت کے ساتھ یہ عذر بھی پیش کیا تھا کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ممنوع ہے۔حضور نے اس اشتہار میں پر زور دلائل سے ثابت کیا کہ پطرس نے قسم کھائی پولوس نے قسم کھائی۔نبیوں نے قسم کھائی۔فرشتوں نے قسم کھائی۔بلکہ خود مسیح نے قسم کھائی۔پھر انگریزی حکومت کے بھی بڑے افسر وزراء