تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 492
تاریخ احمدیت جلدا و تحفہ بغداد " " كرامات الحصاد تین " اور " شمادة القرآن" شهادت القرآن کی تصنیف و اشاعت ایک صاحب منشی عطا محمد صاحب نے جو امرت سر کی ضلع کچری کے اہلمد تھے۔اگست ۱۸۹۳ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ احادیث زمانہ دراز کے بعد مدون ہونے کے باعث پایہ اعتبار سے ساقط ہیں اور اکثر مجموعہ احاد- اس لئے آپ قرآن مجید سے اس بات کی دلیل دیں کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا انتظار کرنا مسلمانوں کے لئے واجب و لازم ہے۔یہ ایک نہایت اہم سوال تھا۔جس کے لئے آپ نے کتاب "شہادۃ القرآن" تصنیف فرمائی۔حضرت اقدس نے اس کتاب میں سوال کا تجزیہ کر کے اسے تین پہلوؤں پر تقسیم کیا اور پھر ہر پہلو پر زبر دست روشنی ڈالی۔برسوں کی آویزش اور کشمکش میں علماء کی ناکامی اور بے بسی دیکھ کر زمانہ حاضرہ کے بعض جدید خیال مسلمان مجبوراً اپنا رخ بدل کر ان خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ قرآن میں کسی مسیح کی آمد کا ذکر ہی موجود نہیں۔اور احادیث موضوع و محرف ہیں۔مرزا صاحب انہی احادیث کا سہارا لے کر مسیح موعود بنے ہیں۔اس لئے ان کا دعوی کیونکر صحیح قرار دیا جا سکتا ہے۔مگر علم کلام کے اسلحہ خانہ کا یہ کوئی نیا تیر نہیں تھا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے "شہادت القرآن" میں اپنے مسیح موعود ہونے کے وہ قرآنی شواہد پیش کئے ہیں کہ ساٹھ سال ہو گئے آج تک کسی بڑے سے بڑے عالم سے بھی ان کا جواب نہیں بن پڑا۔نشی عطا محمد صاحب کے لئے نشان کا وعدہ حضرت اقدس نے منشی عطا محمد صاحب کے سامنے فیصلہ کا ایک سہل طریق سبھی رکھا کہ وہ اشتہار شائع کریں کہ میری تسلی اس رسالہ سے نہیں ہوئی اور میں ابھی تک آپ کے دعوئی کو افتراء سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو میں انشاء اللہ ان کے بارہ میں توجہ کروں گا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے سامنے مجھے مغلوب نہیں کرے گا۔کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں اور اس کے دین کی تجدید کے لئے اس کے حکم سے آیا ہوں۔لیکن منشی صاحب نے خاموشی غنیمت سمجھی اور اس طرف جیتے جی انہوں نے رخ تک نہ کیا۔(یاد رہے کہ منشی صاحب موصوف علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کے والد ماجد تھے)