تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 491 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 491

تاریخ احمدیت جلدا ۴۹۰ " تحفه بغداد "، "کرامات الصادقین " اور " شهادة القرآن " محمد حسین صاحب کو تو بہ کا اعلان کرنا ہو گا۔I بٹالوی صاحب نے جب اپنی علمیت کا راز فاش ہو تادیکھا تو نہایت بودی شرطوں سے اپنا پیچھا چھڑانے کی کوشش کی۔جس D سے صاف کھل گیا کہ بٹالوی صاحب علم تفسیر و ادب میں محض نابلد ہیں۔اور لعن طعن اور سب وشتم کے سوا کچھ نہیں جانتے۔تاہم حضور نے ان پر اتمام حجت کی غرض سے از خود "کرامات الصادقین" کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا جس میں فصیح و بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں چار قصائد رقم فرمائے۔یہ قصائد اگرچہ ایک ہفتہ میں بمقام امر تسر زیب قرطاس ہوئے تھے۔مگر آپ نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے تمام ہم مشرب علماء کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر وہ اس رسالہ کی اشاعت سے ایک ماہ کے عرصہ تک اس کے مقابل پر اپنا فصیح و بلیغ رسالہ شائع کر دیں۔جس میں ایسے ہی حقائق اور معارف اور بلاغت کے التزام سے سورہ فاتحہ کی تفسیر ہو جو اس رسالہ میں لکھی گئی ہے تو ان کو ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔" "کرامات الصادقین " کا شائع ہونا تھا که مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ہمنواؤں کی زبان پر مہر لگ گئی اور انہیں عمر بھر اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی جرات نہ ہو سکی۔کرامات الصادقین " میں حضرت اقدس نے اپنی سچائی پر ایک بار پھر حلفیہ بیان شائع کیا۔چنانچہ لکھا:۔" مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں - G ENGLAND A LANGUAGENDANA KALA NEW رسول الله میرا عقیدہ ہے اور الكِنَّ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن پر آنحضرت ﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلہ میں تو بفضلہ تعالٰی یہی پلہ بھاری ہو گا"۔