تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 473
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۷۲ آئینہ کمالات اسلام" کی تصنیف و اشاعت ماموریت کا بارھواں سال آئینہ کمالات اسلام" کی تصنیف و اشاعت (۶۱۸۹۳) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو قرآن مجید کے کمالات اور اسلام کی اعلیٰ تعلیم سے واقف کرانے کے لئے ۱۸۹۲ء میں ایک کتاب لکھنی شروع کی جو " آئینہ کمالات اسلام " کے نام سے فروری ۱۸۹۳ ء میں شائع ہوئی۔اس کتاب کی تحریر کے دوران میں آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مرتبہ زیارت ہوئی۔اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تالیف پر بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔اس معرکتہ الاراء تصنیف میں متعدد اہم مباحث مثلاً مقام فنا بقا لقاء روح القدس کی دائمی رفاقت اور ملائک و جنات کے وجود کے ثبوت پر جدید زاویہ نگاہ سے روشنی ڈالی گئی ہے۔کتاب میں وہ قوت و شوکت ہے کہ سطر سطر سے تائید حق کا جلوہ صاف نظر آتا ہے۔"آئینہ کمالات اسلام کی طباعت حضرت اقدس علیہ السلام نے ابتداء ہی میں کتاب آئینہ کمالات اسلام لکھنے کا ارادہ فرمایا تو شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پریس امرتسر سے ارشاد فرمایا کہ اپنا پر میں قادیان لے آئیں۔چنانچہ وہ امرتسر سے اپنا پریس قادیان لے آئے اور اسے گول کمرے میں نصب کر دیا۔حضرت اقدس ساتھ ساتھ مضمون لکھتے اور ساتھ ہی ساتھ کاپی لکھی جاتی تھی۔کاتب امام الدین صاحب لاہوری تھے جن کو حضور کا لکھا ہوا خط پڑھنے کی خوب مہارت ہو گئی تھی۔وو التبليغ 1 جنوری ۱۸۹۳ء کو جب کتاب کا اردو حصہ مکمل ہو چکا تو مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے -