تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 471 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 471

تاریخ احمدیت جلدا سفر لاہور صاحب عم محضرت نعمت اللہ ولی اور ان کا اصلی قصیدہ " مولفہ قمر اسلام پوری (قلمی نام دوست محمد شاہد) ناشر کتب پاکستان شمس لاہور۔طبع اول ۶۱۹۷۲ ۲۴ تاریخ رسالت جلد دوم صفحه ۱۲۱-۱۳۳۰ ۲۵- حیات احمد جلد چهارم صفحه ۴۰۲ ۲ تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۵۵ ۲۷ و تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۵۴ ۲۸- حیات احمد جلد چهارم صفحه ۴۰۴-۴۰۸ -۲۹ " رساله نور احمد نمبرا (مولفه شیخ نور احمد صاحب) صفحه ۳۳-۳۵ -۳۰ تاریخ بیعت -۲ جنوری ۱۸۹۲ء تاریخ وفات یکم جولائی ۱۹۳۶ء ۳ تاریخ بیعت ۱۰ جنوری ۶۱۸۹۲- تاریخ وفات یکم مارچ ۱۹۳۳ء عمر ۶۸ سال ۳۲ ولادت اگست ۱۸۷۵ء وفات ۲۸ اپریل ۱۹۰۰ء تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو " اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۶۳ - ۱۰۴ ۳۳ ولادت ۱۸۷۲ ء وفات ۱۲ فروری ۱۹۳۶ء ۳۴- حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے خسر- تاریخ وفات ۱۹ مارچ ۱۹۳۸ ء عمر ۷۲ سال ۳۵ حضرت منشی محمد خاں صاحب کپور تھلوی کے صاحبزادے۔آج کل آپ ماڈل ٹاؤن لاہور میں قیام پذیر ہیں۔(۴- جنوری ۱۹۶۳ء کو انتقال فرما گئے۔مرتب) ۳۶ آسام کے مشہور صحابی ۳۱۳ کی فہرست میں ان کا نام ہی نمبر پر درج ہے، خلافت ثانیہ کے ابتداء میں آپ کلو صال ہوا۔۳۷- تاریخ وفات ۲۳ نومبر ۶۱۹۲۰ ۳۸- ولادت ۱۸۵۴ء وفات ۱۴ اکتوبر ۱۹۳۲ء " ازالہ اوہام " سے متاثر ہو کر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں قادیان پہنچے اور بیعت کرلی۔آپ کے ذریعہ سے ضلع گجرات میں متعددنی احمدی جماعتیں قائم ہو گئیں۔جب مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی تو حضرت مسیح موعود نے آپ کو دینیات کا مدرس مقرر فرمایا آپ صاحب کشف و الہام بھی تھے۔۳۹ وفات 1 اپریل ۱۹۴۹ ۴۰ ولادت کے کے ۱۸ ء وفات ۲۲ جون ۶۱۹۵۷ عمر ۸۰ سال اوقات ۳- جون ۱۹۵۷ء عمر ۸۵ سال ۴۲ تاریخ وفات ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۴ء عمر ۹۳ سال ۴۳ حضرت حافظ صاحب کے شامل احمدیت ہونے کا موجب ” آئینہ کمالات اسلام" کے ان چند اوراق کا مجموعہ ہوا ہے۔جن میں حضرت اقدس نے آیات شریفہ تم اور ثناء الكتب الذين اصطفينا اوران منكم الا واردھا اور ووجدک ضالا فهدی وغیرہ کی تغییر فرمائی تھی۔یہ مجموعے اوراق حسن اتفاق سے آئینہ کمالات اسلام کی طباعت کے دوران ہی میں حضرت اقدس کی ان کتب کے ساتھ شامل ہو کر پہنچ گیا تھا جو خان عبد المجید خان صاحب ریٹائڈ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپور تھلہ کے والد بزرگوار حضرت محمد خان صاحب نے آپ کے والد ماجد حضرت مولوی حافظ سید علی میان صاحب کو اپنے قریبی رشتہ دار جناب رسالدار میجر بهادر عبد الکریم خان رئیس شاہجہانپور کے ذریعہ سے بھیجی تھیں۔حضرت حافظ صاحب کو ان دنوں خشی اندر من مراد آبادی و غیره معاندین اسلام کے اس اعتراض کی وجہ سے بڑی ایذا پہنچ رہی تھی کہ بانی اسلام کیلئے تو خود قرآن میں قبال کا لفظ موجود ہے جس کے معنی گمراہ کے ہیں اور اس کے جواب میں جو کچھ کہا گیا تھا وہ آپ کے نزدیک کافی اور علمی لحاظ معترضین کا دم بند کر دینے والا نہیں تھا۔اور آپ کو بے چینی کے ساتھ ایسے جواب کی فکر و تلاش تھی۔اللہ تعالٰی کا فضل در تم کہ جس وقت مذکورہ کتابیں پہنچیں تو آپ بھی اپنے والد کی خدمت میں حاضر تھے آپ نے جو چیز ان میں سے اٹھائی وہ مجموعہ اوراق ہی تھا اور جب آپ نے اسے کھولا تو نظر کے سامنے وہ صفحہ تھا جس پر تخلط جلی لکھا تھا۔ووجدک ضالا فیدی۔آپ نے اسی مقام سے پڑھنا شروع کر دیا۔اس مضمون میں لفظ ضال کی معنوی تشریح اور ہادی اعظم ﷺ کی شرین میں اس کے دارد ہونے کی دل کشا و روح افزا وجہ ایسے