تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 27
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۷ خاندانی حالات بر لاس ایرانی عظمتوں کی یاد گار تھے اور وہ جہاں جہاں گئے مقبروں سے محلات تک ایرانی نشان کے قیام و احیاء کی تڑپ لے کر گئے۔ورنہ اگر یہ ایرانی خون کے کرشمے نہیں تھے تو تیمور کی قومی حمیت و غیرت نے کیسے گوارا کر لیا کہ وہ ایک مفتوح قوم کے مٹے ہوئے نقوش کو از سر نو اجاگر کرنے کی منظم تحریک اٹھائے اور ایرانی نشان جو فقط ساسانی مقابر کی زینت بن کر رہ گیا تھا ایک زندہ اور قومی نشان کی شکل میں اس کے پورے نظام ریاست پر امرا جائے۔پس تیمور نہ صرف خالص ایرانی النسل انسان ثابت ہوتا ہے بلکہ اپنی قومی شرکت در فعت کا بہت بڑا دلدادہ بھی۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بر لاس قوم کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے فارسی النسل ہونا قطعی اور یقینی امر ہے۔سوم مورخین بالاتفاق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ چھٹی صدی ہجری میں برلاس قبیلہ سمرقند اور کش کے علاقہ میں آباد تھا۔چنانچہ ترک تیموری (Memoirs of Tamur) میں لکھا ہے کہ قراچار نے جو اپنی قوم میں پہلا فرد تھا جس نے اسلام قبول کیا) کش کے میدانوں کو اپنے قبیلہ بر لاس کے لئے مقرر کر دیا تھا۔دیمبرے لکھتا ہے کہ برلاس قبیلے کے لوگوں نے کش اور نخشب میں اپنی ایک خود مختار ریاست قائم کرلی تھی۔اور مار ثم صاف کہتا ہے کہ تیمور کے جد امجد قراچار نے قبیلہ بر لاس کو سمرقند کے قریب کش کے ارد گرد حکومت دے دی تھی۔تاریخ رشیدی کے ترجمہ انگریزی میں ہے کہ علاقہ کش اپنے ماتحت علاقوں سمیت امیر قراچار کے ماتحت تھا (یہ ظفر نامہ کے حوالہ سے لکھا گیا ہے) غرض که تاریخ سے ثابت ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں کشی اور سمرقند کے علاقوں میں بر لاس قوم آباد TA یہ کشی اور سمرقند کا علاقہ قدیم زمانے سے ایرانی نسل کی آماجگاہ تھا۔پرانے زمانے میں سوند یا نہ یا سعد (Sadiana) کہلاتا تھا۔قدیم ایرانی سلطنت اشامی نیٹن کا ایک صوبہ تھا جس کی بنیاد ایک معزز ایرانی سردار اشامینی نے ڈالی تھی۔اور سائرس اور دارا اسی سے تعلق رکھتے تھے۔سمرقند اس صوبے کا دار الخلافہ تھا۔اور سمرقند کے متعلق ای شولر E۔Schuler اپنی کتاب ترکستان میں لکھتا ہے کہ مقامی روایت کے مطابق اس کی بنیاد افراسیاب نے رکھی۔اصلی نام سمرقند ایرانی معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ اس کی تمام بڑی بڑی عمارتیں ایرانی معماروں یا ان کے شاگردوں کی بنائی ہوئی ہیں۔(کیونکہ کتوں سے یہی ظاہر ہے ) یہی نہیں خود سندی قوم کے متعلق انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے کہ یہ لوگ ایک ایرانی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ امر بھی پایہ ثبوت تک پہنچ چکا ہے کہ قدیم اصطلاح کے مطابق ماوراء النہر کے آگے بھی ایرانی بستیاں آباد تھیں۔چنانچہ تاریخ کی اس قطعی