تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 440
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۳۹ سالانہ جلسہ کی بنیاد اور علماء کو روحانی مقابلہ کی عام دعوت آسمانی فیصلہ کی تصنیف و اشاعت اور علماء کو روحانی مقابلہ کی پہلی عام دعوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دسمبر ۱۸۹۱ء میں ایک لطیف رسالہ " آسمانی فیصلہ" تصنیف فرمایا۔اس وقت تک حضور روحانی مقابلہ کا چیلنج غیر مذاہب والوں کو دیا کرتے تھے اب آپ نے اس رسالہ میں تمام کفر علماء مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی ، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ہمنوا دوسرے مولویوں ، صوفیوں ، پیرزادوں، فقیروں اور سجادہ نشینوں کو بھی اس میں شامل کر دیا اور لکھا کہ وہ آپ سے کامل مومنوں کی قرآنی علامات مثلاً امور غیبیہ کا اظہار، دعاؤں کی قبولیت اور معارف قرآن کا انکشاف وغیرہ کی روشنی میں روحانی مقابلہ کرلیں۔اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی فرمائی کہ اس مقابلہ کو فیصلہ کن حیثیت دینے کے لئے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں ایک انجمن قائم کی جائے اور اس کے ممبر فریقین کی رضامندی سے مقرر ہوں۔یہ انجمن ایک سال تک ان علامات سے متعلق فریقین کے کوائف کا ریکارڈ رکھے اور کثرت کی صورت میں اس روحانی معرکہ آرائی میں حق و صداقت کا فیصلہ کیا جائے۔اس ضمن میں حضور نے یہ شرط بھی عائد کی کہ اگر ایک سال کے عرصہ میں کوئی فریق وفات پا جائے تب بھی وہ مغلوب سمجھا جائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص ارادہ سے اس کے کام کو نا تمام رکھا نا کہ اس کا باطل پر ہونا ظاہر کرے۔