تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 428
تاریخ احمدیت جلدا ۴۲۷ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت میں در حقیقت کوئی نزاع ہی نہیں فریقین بالاتفاق مانتے ہیں تو پھر ان میں بحث کیونکر ہو سکتی ہے ؟ بحث کے لائق تو وہ مسئلہ ہے جس میں فریقین اختلاف رکھتے ہیں یعنی وفات و حیات مسیح کا مسئلہ۔جس کے طے ہونے سے سارا فیصلہ ہو جاتا ہے بلکہ حیات مسیح کے ثبوت کی صورت میں مسیح موعود ہونے کا دعوئی ساتھ ہی باطل ہو جاتا ہے۔اور بار بار حضرت اقدس کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے خود وعدہ کر لیا ہے کہ اگر نصوص بینہ قرآن و حدیث سے حیات مسیح ثابت ہو گئی تو میں مسیح موعود ہونے کے دعوے سے دست بردار ہو جاؤں گا۔الغرض خواجہ صاحب نے بہت کوشش کی کہ علماء اس مسئلہ کی طرف آئیں۔مگر علماء کو تو اس مسئلہ میں بحث منظور ہی نہیں تھی وہ کیوں اس طرف آتے۔انہوں نے صاف انکار کر دیا۔اس وقت ایک شخص نے کھڑے ہو کر بڑے درد سے کہا کہ آج تو شیخ الکل صاحب نے دہلی کی عزت خاک میں ملادی اور ہمیں خجالت کے دریا میں ڈبو دیا۔بعض نے کہا کہ اگر ہمارا یہ مولوی سچ پر ہو تا تو اس شخص سے ضرور بحث کرتا۔یہ تو نزدیک والوں کے خیالات تھے لیکن جو نادان اور جاہل دور کھڑے تھے اور جنہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے وہ مشتعل ہو گئے۔اور اپنے خونی پروگرام کی تکمیل کے لئے آمادہ ہونے لگے۔پولیس افسر نے یہ دیکھ کر کہ اب فساد ہوا چاہتا ہے اپنے ماتحت افسر کو حکم دیا کہ مجمع منتشر کر دو۔چنانچہ اعلان کر دیا گیا کہ کوئی مباحثہ نہیں ہو گا۔سب چلے جائیں۔اس اعلان پر حضرت اقدس نے اٹھنے کا قصد فرمایا مگر منشی ظفر احمد صاحب کے یہ عرض کرنے پر کہ مولوی نذیر حسین صاحب وغیرہ بھی تو رخصت ہوں رک گئے بحالیکہ مولوی صاحب موصوف اور ان کے رفقاء اسی دالان میں بیٹھے تھے جس میں دروازہ ہے۔اس لئے وہ چلے جانے کا اعلان ہوتے ہی دروازے سے باہر ہو سکے تھے یہ معلوم ہونے پر حضرت اقدس سبھی مع خدام اٹھے۔صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس حضور کے ہمراہ تھے۔حضور کے بارہ خادموں نے حضور کے گرد حلقہ کر لیا۔اور ان کے گرد پولیس کے جوانوں نے۔بگھیوں کا دو طرفہ کرایہ ادا کر دیا گیا تھا لیکن باہر آکر معلوم ہوا کہ ایک بگھی بھی موجود نہیں ہے۔کیونکہ ایذا رساں بگھی والوں کو بہکا کر پہلے ہی بھگا چکے تھے۔اور دوسری تمام مجھیاں وغیرہ مسجد کی سیڑھیوں تک آنے سے روک دی گئی تھیں۔حضرت اقدس کو مع خدام کچھ دیر اس انتظار میں رکنا پڑا کہ کوئی بگھی یا گاڑی آجائے۔شوریدہ سروں نے جو حضرت اقدس کو دیکھا تو حضور کی طرف بڑھنا شروع کیا۔صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس نے یہ رنگ دیکھا تو حضور سے کہا ان لوگوں کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے۔آپ میری گاڑی میں تشریف لے جائیں حضور مسجد کی سیڑھیوں سے اتر کر اس گاڑی میں بیٹھ گئے تو صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کوچ مین سے کہا کہ جہاں تک جلد ممکن ہو گاڑی کو کو ٹھی میں پہنچاؤ۔حضور کے تشریف لے جانے پر لوگوں نے حضور کے خدام سے بحث کرنی چاہی۔چونکہ وہ موقع