تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 409 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 409

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۰۸ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت مباحثے کا آغاز ان حالات میں حضرت اقدس کا مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثہ شروع ہوا۔یہ مناظرہ تحریری تھا اور ۲۰ سے ۲۹ جولائی ۱۸۹۱ء تک یعنی دس روز جاری رہا۔مباحثہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بخاری شریف رکھ لیتے اور قلم برداشتہ لکھتے جاتے جب مضمون تیار ہو جاتا تو پڑھ کر سنا دیا جاتا۔مگر ادھر بڑی مشکل سے مضمون تیار کیا جاتا۔اور بڑی وقت سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنا مضمون تیار کر کے سناتے۔یہ مباحثہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان پر ہو تا تھا لیکن بعد کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت اقدس سے کہا کہ ہم آپ کے مکان پر آتے ہیں آپ ہمارے مکان پر نہیں آتے۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام مولوی محمد حسن صاحب رئیس آنریری مجسٹریٹ کے مکان پر (جہاں بٹالوی صاحب ٹھہرے ہوئے تھے ) تشریف لے جانے لگے۔حضرت اقدس کی سواری کے لئے ایک صاحب منشی میراں بخش صاحب اکو شٹ محکمہ نہر نے اپنی ثم تم پیش کی لیکن حضور نے فرمایا۔ہم پیدل ہی جائیں گے۔جس راستہ سے حضور گزرتے ہندو بھی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے کہ کس قدر نورانی چہرہ ہے۔مسلمان کیوں ان کے مخالف ہو گئے ہیں۔(حضرت پیر سراج الحق صاحب کی روایت کے مطابق) اس مباحثہ کے دوران میں ایک معجزہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بخاری کا ایک حوالہ طلب کیا۔اس وقت وہ حوالہ حضرت اقدس کو یاد نہیں تھا۔اور نہ آپ کے خادموں میں سے کسی اور کو یاد تھا۔مگر حضرت اقدس نے بخاری شریف کا نسخہ منگایا اور اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد اس کا ایک ایک ورق الٹنے لگے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور فرمایا۔لو یہ دیکھ لو۔دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق الٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور ان پر کچھ نہیں لکھا۔اس لئے میں ان کو جلد جلد الٹا تا گیا آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ایسا معجزانہ تصرف فرمایا کہ اس جگہ کے سوا جہاں حوالہ درج تھا باقی تمام اوراق آپ کو خالی نظر آئے۔حضرت شیخ یعقوب عرفانی کا بیان ہے کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا نہیں لاہور کا ہے مولوی عبدا صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محدثیت اور نبوت پر بحث ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود نے محد ثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی ایک حدیث کا حوالہ دیا۔مولوی عبد الحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا بلکہ بخاری خود