تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 408
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۰۷ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت مولوی صاحب نے کہا کہ میں آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔مولوی نظام الدین صاحب فورا حضرت اقدس کی مجلس میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ کے پاس کیا اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ قرآن شریف ہے مولوی نظام الدین صاحب نے کہا کہ اگر قرآن شریف میں حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ ہونے کی کوئی آیت موجود ہو تو آپ مان لیں گے ؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔ہاں ہم مان لیں گے۔مولوی صاحب نے کہا میں ایک دو نہیں میں آیتیں قرآن شریف کی حضرت عیسی کی زندگی پر لے آؤں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔میں کیا اگر آپ ایک ہی آیت لے آئیں گے تو میں قبول کرلوں گا۔ساتھ ہی فرمایا۔مولوی صاحب یا د رہے آپ کو یا کسی اور کو ایک آیت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کی نہیں ملے گی۔مولوی نظام الدین صاحب نے کہا آپ اپنی بات پر پکتے رہیں۔میں ہیں آیتیں ابھی لائے دیتا ہوں۔چنانچہ وہ مولویوں کے پاس پہنچے اور کہا میں مرزا صاحب کو ہرا آیا ہوں۔مولوی صاحبان یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا مولوی صاحب مرزا صاحب کو کس طرح ہرا آئے؟ مولوی نظام الدین صاحب نے کہا کہ میں حیات مسیح کے ثبوت میں میں آیتوں کا وعدہ کر آیا ہوں۔اب مجھے میں آیتیں قرآن شریف سے نکال دیں مولوی محمد حسین صاحب بولے کہ آپ نے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہم احادیث سے حیات مسیح کا ثبوت پیش کر دیتے ہیں انہوں نے کہا ایسا کہنے کی کیا ضرورت تھی۔کیونکہ مقدم قرآن شریف ہے مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر اور گھبرا کر عمامہ سرسے پھینک دیا اور کہا کہ تو مرزا کو ہرا کے نہیں آیا ہمیں ہرا آیا اور ہمیں شرمندہ کیا۔میں مدت سے مرزا کو حدیث کی طرف لا رہا ہوں اور وہ قرآن شریف کی طرف مجھے کھینچتا ہے۔قرآن شریف میں اگر کوئی آیت مسیح کی زندگی کے متعلق ہوتی تو ہم کبھی کی پیش کر دیتے۔ہم تو حدیثوں پر زور دے رہے ہیں۔تب مولوی نظام الدین صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے کہا کہ جب قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں تو استناد عویٰ تم نے کیوں کیا تھا۔اور کیوں نہیں آیتوں کے دینے کا مجھ سے وعدہ کیا تھا۔اب میں کیا منہ لے کے مرزا صاحب کے پاس جاؤں گا۔اگر قرآن شریف تمہارے ساتھ نہیں مرزا صاحب کے ساتھ ہے تو میں بھی مرزا صاحب کے ساتھ ہوں تمہارے ساتھ نہیں۔چنانچہ مولوی نظام الدین صاحب وہاں سے چلے اور حضرت اقدس کی خدمت میں آکر اور شرمندہ سے ہو کر بیٹھ گئے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔مولوی صاحب آیتیں لے آئے؟ مولوی نظام الدین صاحب نے دو چار مرتبہ دریافت کرنے پر رو کر عرض کیا کہ حضور وہاں تو یہ معاملہ گزرا اب تو جدھر قرآن شریف ہے ادھرہی میں ہوں۔اور یہ کہہ کر انہوں نے بیعت کرلی۔