تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 404 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 404

تاریخ احمدیت جلدا ۴۰۳ علماء وقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ خط پڑھ کر ارشاد فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ان کو یہ لکھ دو کہ ہم مباحثہ کے لئے سہارنپور ہی آجا ئیں گے آپ سرکاری انتظام کرلیں میں تاریخ مقرر پر آجاؤں گا۔اور ایک اشتہار اس مباحثہ کے لئے شائع کر دیا جائے گا تا لا ہو ر وغیرہ مقامات سے صاحب علم اور مباحثہ سے دلچپسی رکھنے والے اصحاب سہارنپور آجائیں۔رہا تقریری اور تحریری مباحثہ وہ اس وقت پر رکھیں تو بہتر ہے جیسی حاضرین جلسہ کی رائے ہوگی۔کثرت رائے پر ہم اور آپ کا بند ہو جائیں گے۔بهر حال آپ مباحثہ ضرور کریں کہ لوگوں کی نظریں آپ کی طرف لگ رہی ہیں۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس دعوت کا صرف یہ جواب دیا کہ انتظام کا میں ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔اور پھر بار بار یاد دہانی کے باوجود چپ سادھ لی۔سعید روحوں کی خدائی جماعت میں شمولیت لدھیانہ ان دنوں مخالفت کا مرکز بنا ہوا تھا مگر اس آتشین فضاء میں بھی خدا کے فرشتے سعید روحوں کو کھینچ کھینچ کر خدا کے مامور کی جماعت میں لا رہے تھے۔لاہور سے ایک عالم مولوی رحیم اللہ صاحب آئے اور آتے ہی انہوں نے حضور کی بیعت کر لی۔50 ان سے قبل مولوی غلام نبی صاحب ساکن خوشاب لدھیانہ میں آئے اور آتے ہی حضرت اقدس کی مخالفت میں تقریریں کرنے لگے۔شہر میں ان کے لیکچروں کی دھوم مچ گئی اور ہر جگہ ان کے علم و فضل کا چرچا ہونے لگا ایک روز اتفاق سے مولوی صاحب کا وعظ اسی محلہ میں تھا جس میں حضور تشریف فرما تھے وعظ اتنا ز بر دست تھا کہ تحسین و آفرین کے نعرے بلند ہونے لگے۔اور مرحبا کا شور چاروں طرف سے اٹھا۔اس وعظ میں لدھیانہ کے تمام مولوی موجود تھے۔اور ان کے حسن بیان اور علم کی بار بار داد دیتے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام زنانہ میں تھے اور کتاب ازالہ اوہام کا مسودہ تیار کر رہے تھے۔مولوی صاحب وعظ کہہ کر اور پوری مخالفت کا زور لگا کر چلے اور ساتھ ساتھ ایک جم غفیر اور مولوی صاحبان تھے اور ادھر سے حضرت اقدس علیہ السلام زنانہ مکان سے باہر مردانہ مکان میں جانے کے لئے نکلے تو مولوی صاحب سے ڈ بھیٹر ہو گئی اور خود حضرت اقدس علیہ السلام نے السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور مولوی صاحب نے جواب میں وعلیکم السلام کہ کر مصافحہ کیا۔ہاتھ ملاتے ہی مولوی صاحب ایسے از خود رفته ہوئے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے آپ کے ساتھ سیدھے مردانہ میں چلے آئے اور حضرت کے سامنے دو زانو بیٹھ گئے۔باہر تمام لوگ حیرت میں کھڑے تھے۔علماء نے عوام کو جو مختلف چہ میگوئیاں کر رہے تھے یقین دلایا کہ مولوی صاحب مرزا کی خبر لینے گئے ہیں وہاں انہیں نیچا