تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 395 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 395

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۹۴ دھوٹی مسیحیت کرتے اور الجھتے رہے۔بعض امتحان اور آزمائش کے لئے اور بعض صرف دیکھنے کے لئے آتے تھے۔ایک روز مخالفوں نے پانچ آدمیوں کو بہکا کر بھیجا اور کہا کہ اس مکان میں ایک شخص ہے جو تمام نبیوں کو گالیاں دیتا ہے اور قرآن اور رسول کو نہیں مانتا۔وہ لوگ سخت غضب میں بھرے ہوئے یکدم مکان میں چلے آئے۔اس وقت ایک احمدی حضرت اقدس سے ایک آیت کے معنے دریافت کر رہا تھا۔حضور نے ایسی تغییر فرمائی کہ وہ لوگ بہت دیر تک چپ بیٹھے رہے۔جب حضور خاموش ہوئے تو انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے مصافحہ کیا اور آپ کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ لوگوں نے ہمیں دھوکہ دیا جو آپ کو کافر کہتے ہیں وہ خود کا فر ہیں اور اگر آپ مسلمان نہیں تو کوئی بھی مسلمان نہیں۔وہ لوگ باہر آئے۔تو لوگوں نے کہا کہ مرزا جادو گر ہے جو اس کے پاس جاتا ہے وہ اس کا ہو رہتا ہے اس کے پاس کوئی نہ جائے۔ri واقعات لدھیانہ میں سے ایک اہم نواب علی محمد خان صاحب لدھیانوی کی وفات واقعہ حضرت نواب علی محمد خان صاحب لدھیانوی کی وفات ہے۔نواب صاحب موصوف حکمت تصوف اور علوم شرعیہ میں ید طولی رکھتے تھے۔اہل اللہ کے بڑے معتقد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق جانباز تھے۔ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے۔انہیں حضرت اقدس علیہ السلام سے اعلیٰ درجہ کا عشق تھا اور اکثر کہا کرتے تھے کہ جو بات میں نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی میں دیکھی وہ کسی میں نہیں دیکھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی شخص ہے تو یہی ہے اس کی تحریر میں نور اس کے کلام میں نور اور اس کے چہرہ میں نور ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام بھی کبھی کبھی نواب صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے اور نواب صاحب بھی آپ سے ملنے کے لئے اکثر آیا کرتے تھے نواب صاحب کے انتقال کے وقت حضرت اقدس علیہ السلام لدھیانہ میں تشریف رکھتے تھے بوقت انتقال نواب صاحب نے دعا کے لئے ایک آدمی حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا اور جوں جوں آخری وقت آتا جاتا تھا آدھ آدھ گھنٹہ اور دس دس منٹ کے بعد آدمی بھیجتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بڑا خوش ہوں کہ حضور اس وقت لدھیانہ تشریف رکھتے ہیں اور مجھے دعا کرانے کا موقعہ ملا۔جب حالت نزع طاری ہوئی تو وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز حضرت مرزا صاحب پڑھائیں تا کہ میری نجات ہو نواب صاحب مرحوم کا انتقال ہو گیا تو لدھیانوی علماء نے نواب صاحب کے اقرباء کو جو ان کے زیر اثر تھے کہلا بھیجا کہ اگر مرزا صاحب جنازہ پر آئے تو ہم اور کوئی مسلمان جنازہ پر نہ آئیں گئے اور تم پر کفر کا فتویٰ لگ جائے گا۔اور جو آئندہ ان میں سے