تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 394 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 394

تاریخ احمدیت ادا ۳۹۳ دعوئی مسیحیت آسمانی پہنچانے میں مصروف ہو گئے۔لدھیانہ کے علماء (مولوی محمد صاحب اور مولوی عبد العزیز صاحب وغیرہ) جو " براہین احمدیہ " کی اشاعت کے زمانے سے مخالفت کرتے چلے آرہے تھے اب اس دعوے پر پہلے سے بھی زیادہ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے آپ کے درود لدھیانہ پر آپ کے خلاف مخالفت کی آگ لگادی۔ان کے حو صلے یہاں تک بڑھے کہ وہ مسلمانوں کو آپ کے قتل پر کھلم کھلا اکساتے۔ایک دفعہ ایک واعظ نے بازار میں کھڑے ہو کر بڑے جوش سے کہا کہ مرزا کا فر ہے اور اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔جو کوئی اس کو قتل کر ڈالے گاوہ بہت بڑا ثواب حاصل کرے گا۔اور سیدھا بہشت کو جائیگا۔ایک گنوار جو ہاتھ میں ایک لٹھ لئے کھڑا اس کی تقریر سن رہا تھا اس وعظ سے بہت متاثر ہوا اور چپکے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکان پوچھتا ہوا آپ کی قیام گاہ پر پہنچ گیا۔وہاں کوئی دربان نہیں ہوتا تھا ہر ایک شخص جس کا جی چاہتا اندر چلا آتا اتفاق سے حضرت اقدس اس وقت دیوان خانے میں بیٹھے تقریر فرما رہے تھے اور چند آدمی جن میں کچھ ارادت مند اور کچھ غیر از جماعت تھے ارگرد بیٹھے حضور کی باتیں سن رہے تھے۔وہ گنوار بھی اپنا لٹھے کاندھے پر رکھے ہوئے کمرہ میں داخل ہوا۔اور دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر آپ پر قاتلانہ حملہ کے لئے مناسب موقعہ کا انتظار کرنے لگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی اور اپنی تقریر جاری رکھی وہ بھی سننے لگا۔چند منٹ کے بعد اس کے دل پر اس تقریر کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ لٹھ اس کے کندھے سے اتر کر زمین پر آگیا اور وہ مزید تقریر سننے کے لئے بیٹھ گیا اور سنتا رہا۔یہاں تک کہ حضور نے یہ سلسلہ گفتگو بند کر دیا۔مجلس میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور آپ کا دعوی میری سمجھ میں آگیا ہے۔اور میں حضور کو سچا سمجھتا ہوں اور آپ کے مریدوں میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔اس پر وہ گنوار بھی آگے بڑھ کر بولا کہ میں ایک واعظ سے اثر پا کر اس ارادہ سے اس وقت یہاں آیا تھا کہ آپ کو قتل کر ڈالوں اور جیسا کہ واعظ صاحب نے کہا ہے سیدھا بہشت کو پہنچ جاؤں۔مگر آپ کی تقریر کے فقرات مجھ کو پسند آئے۔اور میں زیادہ سننے کے واسطے ٹھر گیا۔اور آپ کی باتیں سننے کے بعد مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ مولوی صاحب کا وعظ بالکل بے جاد شمنی سے بھرا ہوا تھا۔آپ بے شک بچے ہیں اور میں بھی آپ کے مریدوں میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس نے اس کی بیعت قبول فرمائی۔اس وقت بیعت ایک علیحدہ کمرہ میں ہر ایک کی الگ الگ ہوتی تھی۔لدھیانہ کے مخالف علماء میں سے مولوی سعد اللہ نو مسلم پیش پیش تھا۔ہر روز کبھی دوسرے روز ایک اشتہار مخالفت میں گالیوں سے بھرا ہوا شائع کرتا تھا جس میں کبھی چوری کا الزام ہوتا اور کبھی بغاوت کا۔اسی طرح اور کئی مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آتے اور بات بات میں جھگڑا