تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 375
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۷۴ سفر علی گڑھ - مارچ ۱۸۸۹ء یکم رجب المرجب ۱۳۰۶ھ یوم دو شنبه 11 مارچ ۱۸۸۹ء مطابق ۸ - رجب المرجب ۱۳۰۷ھ یوم دو شنبه ۱۸ مارچ ۱۸۸۹ ء مطابق ۱۵ رجب المرجب ۱۳۰۶ھ یوم دو شنبه ۲۵ مارچ ۱۸۸۹ء مطابق -۲۲ - رجب المرجب ۱۳۰۶ ھ یوم دو شنبه محولہ بالا نقشہ سے جو اخبار "ریاض ہند کے چار پر چوں سے مرتب کیا گیا ہے اس نظریہ پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے کہ التوفیقات الالهاء ، " میں یکم رجب ۱۳۰۶ھ کو جو ۳۔مارچ ۱۸۸۹ء کا دن شمار کیا گیا ہے وہ ہر گز درست نہیں۔بلکہ اس کے برخلاف یہ ۴۔مارچ ۱۸۸۹ء کا دن تھا اور ظاہر ہے کہ اس حساب کے مطابق ۲۰ رجب ۱۳۰۶ھ کو شمسی تاریخ ۲۳۔مارچ ہی تھی جیسا کہ حضرت مولانا عبد اللہ صاحب سنوری کی روایت ہے۔خلاصه تحقیق الغرض جس نقطہ نگاہ اور زاویہ خیال سے بھی دیکھا جائے اندرونی اور بیرونی علمی اور واقعاتی شہادتوں اور عقلی و نقلی دلائل و براہین کی روشنی میں یہ حقیقت نیر النہار کی طرح ایک قطعی اور فیصلہ کن صورت اختیار کر جاتی ہے کہ بیعت اولی لدھیانہ کی اصل اور صحیح تاریخ ۲۰ - رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ ء ہے اور یقینا یہی دن سلسلہ احمدیہ جیسی مقدس اور عالمی تحریک کی جماعتی زندگی کا پہلا اور مبارک دن ہے جو رہتی دنیا تک یوم الفرقان کی حیثیت سے یاد گار رہے گا اور فرمان ایزدی " تحر هِمْ بِأَيَّامِ اللہ" کا مصداق و مورد سمجھا جائے گا اور سلسلہ بیعت سے بھی قبل کی یہ خدائی پیشگوئی ہر زمانہ میں پوری شان و شوکت سے پوری ہوتی رہے گی که: اس گروہ کو بہت بڑھائے گا اور ہزار ہا صادقین کو اس میں داخل کرے گا۔وہ خود اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کو نشود نمارے گا یہاں تک کہ ان کی کثرت اور برکت نظروں میں عجیب ہو جائے گی اور وہ اس چراغ کی طرح جو اونچی جگہ رکھا جاتا ہے دنیا کی چاروں طرف اپنی روشنی کو پھیلائیں گے اور اسلامی برکات کے لئے بطور نمونہ ٹھہریں گے"۔اشتهار ۴ مارچ ۱۸۸۹ء مشموله تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۵۵) قیام لدھیانہ کے دو واقعات قیام لدھیانہ کے دوران دو واقعات کا تذکرہ ضروری ہے۔پہلا واقعہ : حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا بیان ہے کہ بیعت کے بعد جب میں لدھیانہ ٹھہرا ہوا تھا تو ایک صوفی طبع شخص نے چند سوالات کے بعد حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ آیا آپ