تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 374 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 374

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۷۳ سفر علی گڑھ کی تاریخ تھی۔پس حضرت مولانا عبد اللہ سنوری کی قمری رسمی تاریخوں میں مکمل موافقت پائی جاتی ہے اور کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں۔بنا بریں اختلاف و تضاد" کے مفروضہ پر ۲۲- مارچ ۱۸۸۹ء کو یوم البیعت تجویز کئے جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہو تا۔چنانچہ قمر الا نبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اللہ اپنے ایک حقیقت افروز نوٹ میں تحریر فرماتے ہیں:۔"میاں عبداللہ صاحب سنوری نے پہلے دن کی بیعت کی تاریخ ۲۰- رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۳- مارچ (۱۸۸۹ء) بیان کی ہے مگر رجسٹر بیعت کنندگان سے پہلے دن کی بیعت ۱۹- رجب اور ۲۱ مارچ ظاہر ہوتی ہے۔یعنی نہ صرف تاریخ مختلف ہے بلکہ قمری اور شمسی تاریخوں میں مقابلہ بھی غلط ہو جاتا ہے۔اس اختلاف کی وجہ سے میں نے گزشتہ جنتری کو دیکھا تو وہاں سے مطابق زبانی روایت ۲۰۔رجب کو ۲۳۔مارچ ثابت ہوتی ہے۔پس یا تو رجسٹر کا اندراج چند دن بعد میں ہونے کی وجہ سے غلط ہو گیا ہے اور یا اس میں چاند کی رویت جنتری کے اندراج سے مختلف ہوئی ہوگی۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحه به مطبوعہ ۳ فروری ۱۹۳۹ء) حضرت میاں صاحب کا یہ ناطق فیصلہ (کہ جنتری کی رو سے ۲۰- رجب کو ۲۳۔مارچ کی تاریخ ثابت ہوتی ہے) اپنی پشت پر حقیقتوں اور صداقتوں کی ایک زبر دست طاقت رکھتا ہے۔چنانچہ اگر ۱۸۸۹ء کے جرائد کا مطالعہ کیا جائے تو ان سے بھی اس فیصلہ کی مزید توثیق ہوتی ہے۔مثلاً اس وقت میرے سامنے امرتسر کے ہفت روزہ "ریاض ہند " کا فائل ہے۔اس اخبار کے مالک و مہتمم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص و قدیم صحابی حضرت شیخ نور احمد صاحب تھے جن کے " مطبع ریاض ہند میں نہ صرف حضرت مسیح موعود کی شہرہ آفاق کتاب ” براہین احمدیہ کے تین حصے چھپے بلکہ دعوی مامورت و مسیحیت کے بعد کی بہت ہی کتابیں اور اشتہارات بھی زیور طبع سے آراستہ ہوئے اور یہ سلسلہ نہایت با قاعدگی کے ساتھ ۱۸۹۵ ء میں ضیاء الاسلام پریس " قادیان کی تنصیب تک جاری رہا۔حضرت شیخ صاحب کے اخبار "ریاض ہند کو بر صغیر کی صحافت میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہی وہ اخبار تھا جس میں ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کا مشہور عالم اشتہار شائع ہوا۔اسی میں جماعت احمدیہ کے سنگ بنیاد سے بھی برسوں قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریروں اور سفروں وغیرہ کی اکثر خبریں شائع ہوا کرتی تھیں اور جہاں تک موجودہ تحقیق کا تعلق ہے "ریاض ہند" واحد اخبار ہے جس میں حضرت سیدنا المصلح الموعود کی ولادت با سعادت کی خبر شائع ہوئی۔یہ اخبار اپنے سرورق پر ہمیشہ قمری اور شمسی تاریخوں کے اندراج کا خاص التزام کیا کرتا تھا۔ماہ مارچ ۱۸۸۹ء میں اس اخبار کے چار نمبر شائع ہوئے۔جن پر بالترتیب حسب ذیل تاریخیں موجود ہیں :-