تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 366 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 366

تاریخ احمدیت جلدا ۳۶۵ سفر علی گڑھ الفضل ۱۸- مارچ ۱۹۵۹ء صفحه ۲) ششم - دار البیعت لدھیانہ میں ۱۹۱۲ء سے ۱۹۴۷ء تک جو کتبہ بطور یادگار نصب رہا اس پر بھی ۲۳۔مارچ ۱۸۸۹ ء ہی کی تاریخ ثبت تھی۔ریویو آف ریلیجز اردو جون جولائی ۶۹۴۳ صفحه ۲۹ تا ۳۹) ہفتم۔سید نا حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ خلافت کے آخری دور میں "یوم مسیح موعود کی بنیاد پڑی اور ساتھ ہی حضور پر نور کی اجازت و استصواب کے بعد مرکز احمدیت سے مسلسل اعلان کیا گیا کہ بیعت اوٹی کی تاریخ ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء ہے۔(الفضل ۴- امان ز مارچ ۱۳۲۷ بهش / ۱۹۵۸ء صفحه)) ہم۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے (سلسلہ احمدیہ کے نامور مولف و محقق کی قطعی رائے بھی اسی تاریخ کے حق میں تھی۔چنانچہ آپ اپنی کتاب "لائف آف احمد " میں تحریر فرماتے ہیں:۔THE FORMAL INITIATION BEGAN ON MARCH 23RD, 1889 (20 RAJAB, 1306۔A۔H۔) ( صفحه ۱۵۴ مطبوعه ۱۹۴۹ء مطابق ۱۳۲۸ ش) تہم - خالد احمدیت مولانا ابو العطاء صاحب فاضل نے یوم جمہوریہ پاکستان کے موقعہ پر ۲۳- مارچ ۱۹۵۷ء کو ایک مضمون سپرد قلم کیا جس میں نہ صرف محولہ بالا تاریخ بیعت کی مکمل تائید کی بلکہ یہ نہایت ایمان افروز اور لطیف نکتہ بھی بیان فرمایا کہ:- "ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے بغیر کوئی پتہ بھی ہل نہیں سکتا۔پس اس لحاظ سے کوئی واقعہ اتفاقی نہیں ہے۔بلکہ ہر کام ، حادثہ اور ہر سانحہ اللہ تعالیٰ کے علم اور عظیم حکمت کے ماتحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔الہی تصرفات میں سے یہ عجیب تصرف ہے کہ ۲۳- مارچ کو ہی اس زمانہ کے مامور نے روحانی جماعت کا علمی طور پر سنگ بنیاد رکھا اور اسی تاریخ کو مادی دنیا میں ارض مقدسہ (پاکستان) بنے پر اس کے جمہوریہ اسلامیہ قرار پانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔بہر حال جماعت احمدیہ کے لئے ۲۳- مارچ کی تاریخ نہایت ہی اہم اور خوشی کی تاریخ ہے “۔(الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۵۷ء صفحہ ۵ کالم ۴) سید نا المصلح الموعود کی ہدایت خاص، حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے چشم دید بیان حضرت عرفانی کے تائیدی نظریہ حضرت مصلح موعود کے واضح فرمان حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد اور مولانا ابو العطاء صاحب کی حتمی رائے ، دار البیعت کے یادگاری کتبہ اور جماعت احمدیہ کے اجماعی مسلک سے سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا کہ ۲۰- رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء ہی کو جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ ہو۔یعنی ان محرکات و عوامل کا تجزیہ کیجئے جو اس صاف اور دو ٹوک