تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 343
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۴۲ جماعت کا سنگ بنیاد صاحب سے بیعت کے الفاظ کہلوائے۔ان ایام میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نیچری خیالات رکھتے تھے۔لیکن چونکہ وہ بچپن ہی سے حضرت مولانا نور الدین سے راہ و رسم رکھتے تھے اس لئے انہوں نے محض آپ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بیعت کرلی۔بیعت کے بعد اتنا زبردست تغیر ہوا کہ خود ہی فرمایا کرتے تھے۔” میں نے قرآن بھی پڑھا تھا۔مولانا نور الدین کے طفیل سے حدیث کا شوق بھی ہو گیا تھا۔گھر میں صوفیوں کی کتابیں بھی پڑھ لیا کرتا تھا۔مگر ایمان میں وہ روشنی وہ نور معرفت میں ترقی نہ تھی۔جو اب ہے اس لئے میں اپنے دوستوں کو اپنے تجربے کی بناء پر کہتا ہوں کہ یاد رکھو اس خلیفہ اللہ کے دیکھنے کے بدوں صحابہ کا سازنده ایمان نہیں مل سکتا۔اس کے پاس رہنے سے تمہیں معلوم ہو گا کہ وہ کیسے موقع موقع پر خدا کی وحی سناتا ہے اور وہ پوری ہوتی ہے تو روح میں ایک محبت اور اخلاص کا چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔جو ایمان کے پودے کی آبپاشی کرتا ہے۔" et مردوں کی بیعت کے بعد حضرت گھر میں آئے تو بعض عورتوں نے بھی بیعت عورتوں کی بیعت کی۔سب سے پہلے حضرت مولانا نور الدین صاحب کی اہلیہ محترمہ حضرت صغری بیگم نے بیعت کی۔حضرت ام المومنین ابتداء ہی سے آپ کے سب ہی دعاوی پر ایمان رکھتی تھیں اور شروع ہی سے اپنے آپ کو بیعت میں سمجھتی تھیں اس لئے آپ نے الگ بیعت کی ضرورت نہیں کبھی۔بیعت کے بعد اجتماعی کھانا اور نماز میاں رحیم بخش صاحب سنوری کا بیان ہے کہ "بیعت کے بعد کھانا تیار ہوا تو حضور نے فرمایا۔اس مکان میں کھانا کھلاؤ کیونکہ وہ مکان لمبا تھا۔غرض دستر خوان بچھ گیا اور سب دوستوں کو وہیں کھانا کھلایا گیا کھانے کے وقت ایسا اتفاق ہوا کہ میں حضور کے ساتھ ایک پہلو پر بیٹھا تھا حضور اپنے برتن میں سے کھانا نکال کر میرے برتن میں ڈالتے جاتے تھے۔اور میں کھانا کھاتا جاتا تھا۔گا ہے حضور بھی کوئی لقمہ نوش فرماتے تھے۔کھانے کے بعد نماز کی تیاری ہوئی۔نماز میں بھی ایسا اتفاق پیش آیا کہ میں حضور کے ایک پہلو میں حضور کے ساتھ کھڑا ہوا۔اب مجھے یاد نہیں رہا کہ اس وقت کون امام تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں ۱۸ اپریل دوسرے ایام میں بیعت ۱۸۸۹ء تک مقیم رہے۔ابتداء محلہ جدید میں پھر محلہ اقبال منبج میں تاہم بیعت کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔پہلے بیعت اکیلے اکیلے ہوتی رہی پھر خطوط کے ذریعہ سے پھر مجمع عام میں۔