تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 342
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۴۱ جماعت کا سنگ بنیاد حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کے بعد میر عباس علی صاحب شیخ محمد حسین صاحب خوشنویس مراد آبادی نیز چوتھے نمبر پر مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور پانچویں نمبر پر مولوی عبد اللہ صاحب ساکن تنگی علاقہ چار سدہ (صوبہ سرحد) نے بیعت کی۔ان کے بعد غالبا منشی اللہ بخش صاحب الدھیانہ کا نام لے کر بلایا اور پھر شیخ حامد علی صاحب سے کہدیا کہ خود ہی ایک ایک آدمی کو بھیجتے جاؤ۔اس کے بعد آٹھویں نمبر پر قاضی خواجہ علی صاحب نویں نمبر پر حافظ حامد علی صاحب اور دسویں نمبر پر چوہدری رستم علی صاحب اور پھر معا بعد یا کچھ وقفے کے ساتھ ) منشی اروڑا خاں صاحب نے بیعت کی۔ستائیسویں نمبر پر رحیم بخش صاحب سنوری کی بیعت ہوئی۔اس طرح پہلے دن باری باری چالیس افراد نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا بیان ہے کہ "سبز کاغذ پر جب اشتہار حضور نے جاری کیا۔تو میرے پاس بھی چھ سات اشتہار حضور نے بھیجے۔منشی اروڑا صاحب نور الدھیانہ کو روانہ ہو گئے دوسرے دن محمد خاں صاحب اور میں گئے اور بیعت کرلی۔نشی عبد الرحمن صاحب تیسرے دن پہنچے کیونکہ انہوں نے استخارہ کیا۔اور آواز آئی "عبدالرحمن آجا۔ہم سے پہلے اس دن آٹھ نو کس بیعت کر چکے تھے۔بیعت حضور اکیلے اکیلے کو بٹھا کر لیتے تھے اشتہار پہنچنے سے دوسرے دن چل کر تیسرے دن صبح ہم نے بیعت کی پہلے منشی اروڑا صاحب نے۔پھر میں نے۔میں جب بیعت کرنے لگا تو حضور نے فرمایا۔کہ آپ کے رفیق کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی۔منشی اروڑا صاحب نے تو بیعت کرلی ہے اور محمد خاں صاحب نما رہے ہیں کہ نہا کر بیعت کریں۔چنانچہ محمد خاں صاحب نے بیعت کر لی۔اس کے ایک دن بعد منشی عبدالرحمن صاحب نے بیعت کی۔منشی عبدالرحمن صاحب۔منشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب تو بیعت کر کے واپس آگئے کیونکہ یہ تینوں ملازم تھے میں پندرہ ہیں روز لدھیانہ ٹھہرا رہا۔اور بہت سے لوگ بیعت کرتے رہے۔حضور تنہائی میں بیعت لیتے تھے اور کواڑ بھی قدرے بند ہوتے تھے۔بیعت کرتے وقت جسم پر ایک لرزہ اور رقت طاری ہو جاتی تھی۔اور دعا بعد بیعت بہت لمبی فرماتے تھے۔" پیر سراج الحق صاحب نعمانی شیخ یعقوب علی صاحب تراب I اور مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوئی اس دن لدھیانہ میں موجود تھے۔مگر پہلی بیعت میں شامل نہ ہو سکے۔پیر سراج الحق صاحب کا منشاء قادیان کی مسجد مبارک میں بیعت کرنے کا تھا جسے حضرت اقدس نے منظور فرمالیا۔اور ۲۳ دسمبر ۱۸۸۹ء کو بیعت لی۔باقی حضرت مولانا عبد الکریم صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے انہی ایام میں بیعت کرلی تھی۔حضرت اقدس نے مولانا نور الدین صاحب کو بلایا اور ان کے ہاتھ میں مولانا عبد الکریم صاحب کا ہاتھ رکھا اور ان ہر دو کو اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر مولانا عبد الکریم