تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 311 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 311

تاریخ احمدیت۔جلدا آریہ سماج کا طوفان بے تمیزی که جناب مرزا غلام احمد صاحب کا مجھ پر بڑا احسان ہے انہی کی وجہ سے میں مشرف باسلام ہوا۔میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔مرزا صاحب کی بدنامی کا جو قصہ میں نے سنا تھا ان کو سنایا - وب صاحب نے مرزا صاحب کو ایک خط لکھوایا جس کا جواب آٹھ صفحوں کا انہوں نے لکھا۔اور مجھ کو لکھا کہ لفظ بلفظ ترجمہ کر کے وب صاحب کو سنا دیتا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔وب صاحب نہایت شوق و ادب کے ساتھ حضرت اقدس کا خط سنتے رہے۔خط میں حضرت اقدس نے اپنے اس دعوی کو معہ دلیل کے لکھا تھا پنجاب کے علماء کی مخالفت اور عوام بہ ، شورش کا تذکرہ تھا۔حضور نے یہ بھی لکھا تھا کہ مجھ کو بھی تم سے (یعنی وب صاحب سے ملنے کی بڑی خواہش ہے۔وب صاحب ، حاجی عبد اللہ عرب اور میری ایک کمیٹی ہوئی کہ کیا کرنا چاہیئے۔رائے کہی ہوئی کہ مصلحت نہیں ہے کہ ایسے وقت میں کہ ہندوستان میں چندہ جمع کرتا ہے ایک ایسے بد نام شخص سے ملاقات کر کے اشاعت اسلام کے کام میں نقصان پہنچایا جائے اب اس بد فیصلہ پر افسوس آتا ہے اب صاحب لاہور گئے تو اسی خیال سے قادیان نہ گئے لیکن بہت بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک شخص نے اب صاحب سے پوچھا کہ آپ قادیان حضرت مرزا صاحب کے پاس کیوں نہیں جاتے تو انہوں نے یہ گستاخانہ جواب دیا کہ قادیان میں کیا رکھا ہوا ہے۔لوگوں نے وب صاحب کے اس نا معقول جواب کو حضرت اقدس تک پہنچا بھی دیا غرض ہندوستان کے مشہور شہروں کی سیر کر کے رب صاحب تو امریکہ جا کر اشاعت اسلام کے کام میں سرگرم ہو گئے۔دو ماہ تک میں وب صاحب کے ساتھ رہا۔وب صاحب حقیقت میں آدمی معقول ہے اور اسلام کی سچی محبت اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے۔مجھ سے جہاں تک ہو سکا ان کے معلومات بڑھانے خیالات کج کو درست کرنے اور مسائل ضروری کی تعلیم میں کوشش کی اور شیخ محمد میرا ہی رکھا ہوا نام ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا ویسا ہوا۔ہندوستان کے مسلمانوں نے چندہ کا وعدہ تو کیا لیکن ادا ہو تا ہوا کہیں سے نظر نہیں آتا تھا۔حاجی عبد اللہ عرب صاحب نے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے لیکن نرود میخ آہنی در سنگ۔لاکھوں روپیہ خلاف شرع شریف خرچ کرنے میں مسلمان مستعدد سرگرم ہی رہے اور اس بہت بڑے کام میں کچھ بھی نہ دیا۔صرف رنگوں اور حیدر آباد دکن سے تو کچھ کیا گیا۔کل روپے جو میرے خیال میں بھیجے گئے وہ میں ہزار ہوں گے جس میں حاجی عبداللہ صاحب عرب کا سولہ ہزار ہو گا۔بیچاره غریب حاجی اس نیک کام میں پس گیا۔جب حاجی عبد اللہ عرب صاحب چندہ کے فراہم نہ ہونے سے سخت بے چینی میں مبتلا ہوئے۔تو اپنے پیر کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت سید اشہد الدین صاحب کی خدمت میں جاکر عرض کیا حضرت پیر صاحب نے استخارہ کیا۔معلوم ہوا کہ انگلستان اور امریکہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے