تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 310 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 310

تاریخ احمدیت۔جلدا ٣٠٩ آریہ سماج کا طوفان بے تمیزی اہل اسلام کی خیر خواہی کا عنایت فرمایا ہے۔لیکن جب میں عبد اللہ عرب کے جوش پر غور کرتا ہوں تو سر نیچا کر لیتا ہوں مجھ کو عبد اللہ عرب کے ساتھ بڑا نیک ظن ہے اور وہ بھی مجھے محبت سے ملتے ہیں مجھ کو عبد اللہ عرب کے ساتھ رہنے کا عرصہ تک موقعہ ملا ہے اگر میں ان کی روحانی خوبیوں کو لکھوں تو بہت طول ہو جائے گا۔اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس آخری زمانہ میں بھی اس قسم کے مسلمان موجود ہیں۔مکہ معظمہ میں نہر زبیدہ کی اصلاح کے لئے قریب چار لاکھ روپیہ چندہ ایک عبد اللہ عرب صاحب کی کوشش سے جمع ہوا تھا۔بمبئی میں عبداللہ عرب صاحب نے الیگزنڈر رسل وب سفیر امریکہ کے مسلمان ہونے کا حال سنا تو فوراً انگریزی میں خط لکھوا کر وب صاحب کے پاس روانہ کیا۔وب صاحب نے بھی ایسے ہی گرم جوشی کے ساتھ جواب دیا۔اور خواہش ظاہر کی کہ اگر آپ کسی طرح فیلا آسکتے ہیں تو امریکہ کے کام میں کچھ صلاح و مشورہ کیا جاتا۔حاجی عبداللہ عرب صاحب کو حضرت پیرسید اشہد الدین جھنڈ یو الے سے بیعت ہے شاہ صاحب کی بڑی عظمت عبد اللہ عرب کے دل میں ہے۔مجھ سے اس قدر تعریف ان کی بیان کی ہے کہ مجھ کو بھی مشتاق بنا دیا ہے کہ ایک بار پیر سید اشہد الدین صاحب کی ملاقات ضرور کروں۔جب کوئی اہم کام پیش ہوتا ہے تو حاجی عبد اللہ عرب صاحب اپنے پیرو مرشد سے صلاح ضروری لے لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے مرشد سے میلا جانے کے بارے میں استفسار کیا۔استخارہ کیا گیا شاہ صاحب نے کہا کہ ضرور جاؤ۔اس سفر میں کچھ خیر ہے عبد اللہ عرب صاحب نے مجھ کو خط لکھا کہ تو بھی میلا چل۔میں انگریزی نہیں جانتا اور وب صاحب اردو نہیں جانتے ایک مترجم ضروری ہے۔اور ایک نو مسلم سے ملنا ہے نہ معلوم کہ اس بیچارے کو دین اسلام کے بارے میں کیا کچھ پوچھنے کی حاجت ہو۔میں اس زمانہ میں کٹک میں تھا۔کلکتہ میں حاجی صاحب میرا بہت انتظار کرتے رہے۔مسلمانان کٹک نے مجھ کو جلد رخصت نہ دی آخر وہ ایک یوریشین نو مسلم کو لے کر منیلا چلے گئے۔اس سفر میں حاجی صاحب کا ہزار روپیہ سے بالا صرف ہوا۔وب صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ بات طے پائی کہ اب صاحب سفارت کے عمدہ سے استعفیٰ داخل کریں اور اشاعت اسلام کے لئے حاجی عبداللہ عرب صاحب چندہ جمع کریں۔حاجی صاحب نے ہندوستان واپس آکر مجھ سے ملاقات کی اور میرے ذریعہ سے ایک جلسہ حیدر آباد میں قائم ہوا۔جس میں چھ ہزار روپیہ چندہ بھی جمع ہوا۔لیکن میں نے حاجی صاحب سے کہدیا کہ ابھی دب صاحب کو عمدہ سے علیحدہ ہونے کو نہ لکھو جب تک چندہ پورا جمع نہ ہوئے۔حاجی صاحب نے اپنے جوش میں میری نہ سنی اور بمبئی سے تار دیا کہ سب ٹھیک ہے تم نوکری سے استعفاء داخل کردو۔چنانچہ اب صاحب نے ویسا ہی کیا اور ہندوستان آئے۔میں بمبئی سے ساتھ ہوا۔بمبئی - پونہ - حیدر آباد اور مدارس ساتھ رہا۔حیدر آباد میں وب صاحب نے مجھ سے کہا