تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 286 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 286

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۸۵ سفر ہوشیار پور کا موعود قرار دیتے ہوئے بتایا۔” میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں ایک دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔وہ اگر چہ اب تک جو کیکم ستمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہو ا مگر خد اتعالٰی کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔یہ ہے عبارت اشتہار سبز کے صفحہ سات کی جس کے مطابق جنوری ۱۸۸۹ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالٰی زندہ موجود ہے اور سترھویں سال میں ہے " اکابر جماعت احمدیہ کا قطعی مسلک ان تصریحات ہی کا نتیجہ تھا کہ ابتداء ہی سے جماعت کے اکابر بزرگوں نے جب بھی جماعت کے سامنے پسر موعود کی پیشگوئی کا تذکرہ کیا قطعی طور پر اسی مسلک کا اظہار کیا کہ حضرت صاجزادہ مرزا محمود احمد ہی سبز اشتہار کی پیشگوئی کے مصداق ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں پسر موعود ہیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد حضرت مولانانور الدین (خلیفہ المسیح اول) کی شخصیت پوری جماعت کے لئے مطاع کل تھی بالخصوص اس لئے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے متعلق لکھا تھا کہ وہ مشکوۃ نبوت سے منور ہیں اور اپنی پاک طینتی اور شان جوانمردی کے مناسب آنحضرت ﷺ کے نور سے نور لیتے ہیں اور آپ کے لبوں پر حکمت بہتی ہے اور آسمان کے نور نازل ہوتے ہیں۔اس برگزیدہ ہستی کی خدمت میں جب عمر کے آخری ایام میں حضرت پیر منظور محمد صاحب نے یہ عرض کیا کہ مجھے آج حضرت اقدس مسیح موعود کے اشتہارات پڑھ کر معلوم ہو گیا ہے کہ پسر موعود میاں محمود احمد صاحب ہی ہیں تو آپ نے فرمایا ” ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کسی خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں۔مزید توثیق کے لئے اپنے قلم مبارک سے آپ نے یہ لکھا۔۔" یہ لفظ میں نے برادرم منظور محمد سے کیے ہیں" اس تاریخی دستاویز کا چربہ پیر صاحب موصوف نے مئی ۱۹۱۴ء کے شعید الاذہان صفحہ ۲۵ میں شائع کر دیا۔حضرت مولانا نور الدین خلیفہ المسیح اول نے اشارہ النبی نے اشارہ الہی۔ہ الہی سے یہ حیرت انگیز خبر بھی دی کہ مصلح موعود ۱۹۴۲ء کے بعد ظاہر ہو گا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو بذریعہ رویا جنوری ۱۹۴۴ء میں بمقام لاہو ر بتایا گیا کہ آپ ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کے مصداق ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے " محمود کی خواہ کوئی کتنی شکایتیں ہمارے پاس کرے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں ہمیں تو اس میں وہ چیز نظر آتی ہے جو ان کو نظر نہیں آتی۔یہ لڑکا بہت بڑا بنے گا اور اس سے خدا تعالیٰ