تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 261 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 261

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۶۰ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت نہیں کرتے۔بے جا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔آپ کی زبان بد زبانی سے رکتی نہیں آپ لکھتے ہیں اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان ما نگیں یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلے ہیں گویا آپ اس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بیباکوں کو تنبیہ کر سکتا ہے باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور مکر کرتا ہے۔یہ خود آپ کی نا سمجھی ہے مکر لطیف اور مخفی تدبیر کو کہتے ہیں جس کا اطلاق خدا پر ناجائز نہیں۔اور عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے لئے آتا ہے کیونکہ وہ سب اونچوں سے اونچا اور جلال رکھتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی چیز کا سہارا نہیں۔پھر جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے تو عرش کا اعتراض کرنا کس قدر ظلم ہے آپ عربی سے بے بہرہ ہیں آپ کو مکر کے معنے بھی معلوم نہیں۔مکر کے مفہوم میں کوئی ایسا نا جائز امر نہیں ہے جو خداتعالی کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔شریروں کو سزا دینے کے لئے خدا کے جو باریک اور مخفی کام ہیں ان کا نام مکر ہے لغت دیکھو پھر اعتراض کرد - میں اگر بقول آپ کے دید سے امی ہوں تو کیا حرج ہے کیونکہ میں آپ کے مسلم اصول کو ہاتھ میں لے کر بحث کرتا ہوں مگر آپ تو اسلام کے اصول سے باہر ہو جاتے ہیں صاف افتراء کرتے ہیں۔چاہئے تھا کہ عرش پر خدا کا ہونا جس طور سے مانا گیا ہے اول مجھ سے دریافت کرتے پھر اگر گنجائش ہوتی تو اعتراض کرتے اور ایسا ہی مکر کے معنے اول پوچھتے پھر اعتراض کرتے۔اور نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلا دے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔پنڈت لیکھرام کم و بیش دو ماہ تک قادیان میں رہا اس عرصہ میں خط و کتابت کے نتیجہ میں یہ تبدیلی ضرور ہوئی کہ ۲۰۰ روپیہ ماہوار کی بجائے میں روپیہ ماہانہ رقم پر آگیا۔مگر اس کے مقابل اس کی بد لگامی اور بیہودہ سرائی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔اور وہ اپنی ضد پر آخر وقت تک قائم رہا۔مرزا امام الدین کا آلہ کار بن کر اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سوقیانہ حملے کرتا رہا۔پنڈت لیکھرام کی یہ مخالفانہ کارروائی سال کے آخر تک پوری طرح جاری رہی۔اگلا سال ۱۸۸۶ء آیا تو حضرت مسیح موعود پر فروری ۱۸۸۶ء میں پنڈت لیکھرام اور منشی اندر من مراد آبادی کے متعلق بعض انکشافات ہوئے مگر آپ نے خدائی منشاء کے مطابق پہلے ان ہر دو سے پوچا کہ کیا ان کا اظہار کر دیا جائے۔مراد آبادی صاحب تو خاموش رہے مگر لیکھرام نے افتاد طبعیت کا ثبوت دیتے ہوئے نہایت درجہ بے باکی سے تحریری اجازت بھجوادی۔یہی نہیں جب حضرت مسیح موعود کا ماسٹر مرلی دھر ہوشیار پوری سے مباحثہ سرمہ چشم آرید" کے نام سے شائع ہوا تو اس کی شرر انگیزیاں ریکا یک بڑھ گئیں اور اس نے اپنی کتاب "خبط احمدیہ میں پر میشور سے بچے فیصلہ کی درخواست کرتے ہوئے کھلے لفظوں میں لکھا۔" میں نیاز