تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 260
تاریخ احمدیت۔جلد ۲۵۹ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت ہوئے ملتے تھے اور کبھی خالی ہاتھ نہ آنے دیتے۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھے نہایت عمدہ سیب دیئے۔میں لے کر گیا۔پنڈت لیکھرام کا بھی معمول ہو گیا تھا۔کہ جب میں واپس جاتا تو ضرور پوچھتا کیا لائے ہو ؟ میں نے جب کہا کہ سیب لایا ہوں تو اس نے گویا للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر کہالا ؤ لاؤ میں کھاؤں۔میں نے ان کو ہنسی سے کہا کہ دشمن کے گھر کی چیز تم کو نہیں کھانی چاہیے۔تو اس نے جھٹ میرے ہاتھ سے سیب لے لیا اور کھانا شروع کر دیا۔لیکھرام اپنی تحریر اور مجلس میں نہایت رکیک اور سوقیانہ حملے کرتا تھا۔مگر آپ ان کو نظر انداز کر کے تحقیقی جوابات دیتے تھے اور آپ کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ دیانتدارانہ روش اختیار کر کے آپ کی دعوت نشان نمائی پر رضامندی اختیار کرے۔دوران خط و کتابت میں آپ نے اسلام کی صداقت کا قائل کرنے کے لئے اس کے سامنے اپنا وہ مخصوص علم کلام بھی پیش کیا۔جس نے دنیائے اسلام میں زبردست انقلاب برپا کر رکھا تھا یعنی دعوئی اور دلیل دونوں مذہبی کتاب سے پیش کرنے چاہیں۔لیکن جب لیکھرام کے مذہبی لیڈر اور آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی کو اس جری پہلوان کے سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی تو لیکھرام کو کیا جرات ہوتی؟ لیکھرام ہر دفعہ نہایت چالاکی سے اس آسمانی حربہ کی زد سے بچنے کی خاطر صرف نشان دکھائے جانے کا مطالبہ دہرا دیتا اور اپنے ہزلیات کے فن میں مشاقی کے جو ہر دکھانے میں ہی کامیابی سمجھتا تھا۔پنڈت لیکھرام ۱۹- نومبر ۱۸۸۵ء کو قادیان آیا اور کم و بیش دو ماہ I قادیان میں رہا اس عرصہ میں اس نے مرزا امام الدین کا آلہ کار بن کر اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگا تار سوقیانہ حملے کئے۔ایک مرتبہ تو یہاں تک نوبت آ پہنچی کہ اس کی زبان درازی کو دیکھ کر مرزا سلطان احمد صاحب ایسے مرنجان مرنج طبعیت انسان نے اسے مباحثے کا چیلنج دے دیا۔بلکہ پورے جوش کے عالم میں ہندو بازار تک جاپہنچے۔مگر ہندو ان کی یہ جرات دیکھ کر سہم گئے اور لیکھرام کو باہر نہ نکلنے دیا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔۱۳ د سمبر کو اس نے ایک خط میں لکھا۔" مرزا صاحب کندن کوہ (اس کے آگے ایک شکستہ لفظ تھا جو پڑھا نہیں گیا۔ناقل ) افسوس کہ آپ قرآنی اسپ اور اوروں کے اسپ کو خچر قرار دیتے ہیں۔میں نے ویدک اعتراض کا عقل سے جواب دیا اور آپ نے قرآنی اعتراض کا نقل سے مگر وہ عقل سے بسا بعید ہے۔اگر آپ فارغ نہیں تو مجھے بھی تو کام بہت ہے اچھا آسمانی نشان تو دکھا دیں اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان تو مانگیں تا فیصلہ ہو"۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا۔” جناب پنڈت صاحب آپ کا خط میں نے پڑھا۔آپ یقیناً سمجھیں کہ ہم کو نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق