تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 256 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 256

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۵۵ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت اس وقت جا نہیں سکتا تم چابی لے جاؤ اور جا کر روپیہ لے لو۔اس پر حافظ صاحب ان کے گھر گئے اور ان کا پیغام دے کر چو ہمیں سو روپیہ لے آئے اور اپنے دوستوں سے کہا یہ مرزا صاحب کی تائید ربانی کا کھلا کھلا ثبوت ہے۔صبح ہوئی تو یہ اصحاب مطلوبہ رقم سمیت مرزا امان اللہ صاحب منشی امیرالدین صاحب خلفیہ رجب دین صاحب II اور غالبا با با محمد چٹو وغیرہ لاہور کے دوسرے سرکز وہ مسلمانوں کو ساتھ لے کر منشی اند ر من صاحب مراد آبادی کی موعود جائے قیام پر پہنچے لیکن وفد کو یہاں اگر معلوم ہوا کہ منشی صاحب تو لاہور سے اسی روز فرید کوٹ چلے گئے ہیں۔جس روز انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں مطلوبہ رقم کے لئے خط لکھا تھا۔حضرت اقدس نے یہ ناشائستہ حرکت دیکھ کر ۳۰۔مئی ۱۸۸۵ء کو ان کے فرار کا واقعہ اور اصل خط جو آپ نے وفد کے ذریعہ سے منشی صاحب کو بھجوایا بلا کم و کاست پبلک کے سامنے رکھ دیا۔خشی اندر من صاحب نے یوں بر سر عام اپنی ذلت دیکھی تو ہندوؤں کی اشک شوئی کرنے اور اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کے لئے بے سروپا اور مغالطہ انگیز اشتہار شائع کرڈالا اور لکھا کہ پہلے مرزا صاحب نے خود ہی مجھ سے بحث کا وعدہ کیا اور جب میں اسی نیت سے مشقت سفر اٹھا کر لاہور میں آیا تو پھر میری طرف اس مضمون کا خط بھیجا کہ ہم بحث کرنا نہیں چاہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوبارہ ایک اشتہار میں بڑی تفصیل سے منشی صاحب کی عہد شکنی کنارہ کشی اور حق پوشی پر روشنی ڈالتے ہوئے بالاخر پر میشر کے نام پر انہیں اپیل کی کہ "اگر آپ طالب صادق ہیں تو آپ کے پر میشر کی قسم دی جاتی ہے کہ آپ ہمارے مقابلہ سے ذرا کو تاہی نہ کریں۔آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لئے قادیان میں آکر ایک سال تک ٹھہریں اور اس عرصہ میں جو کچھ وساوس عقلی طور پر آپ کے دل پر دامنگیر ہوں وہ بھی تحریری طور پر رفع کراتے جائیں۔پھر اگر ہم مغلوب رہے تو کس قد رفح کی بات ہے کہ آپ کو چو ہیں سو روپیہ نقد مل جائے گا اور اپنی قوم میں آپ بڑی نیک نامی حاصل کریں گے “۔حضرت اقدس نے منشی صاحب سے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر قادیان میں ایک سال تک ٹھہرنے کی نیت سے آنے کا ارادہ ظاہر کریں تو مراد آباد سے قادیان تک کا کل کرایہ بھی انہیں بھیج دیں گے۔اور جو میں سو روپیہ کسی بنگ سرکاری میں الگ جمع کر دیا جائے گا۔لیکن منشی صاحب تو مہاراجہ صاحب نابھہ کے آلہ کار بن کر محض ڈرامائی انداز میں ایک شور و غوغا بلند کرنے آئے تھے۔وہ بھلا اس دعوت کو کیسے قبول کر لیتے۔چنانچہ حضرت اقدس کے جواب الجواب پر بالکل خاموش ہو گئے اور بظاہر یہ خط و کتابت بالکل بے نتیجہ ثابت ہوئی۔مگر کرشمہ قدرت ملاحظہ ہو کہ اس کے چودہ پندرہ برس بعد لاله نرائن داس صاحب پلیڈر مراد آباد کے فرزند اور منشی اندر من صاحب کے نواسے بھگوتی سہائے نے قبول اسلام کر کے آنحضرت ا کی