تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 255
تاریخ احمدیت جلدا ۲۵۴ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت بروں اور ایشیا یورپ اور امریکہ کے تمام بڑے بڑے مذہبی لیڈروں، فرمانرواؤں ، مہاراجوں، عالموں، ، مصنفوں اور نوابوں کو باقاعدہ رجسٹری کر کے بھیجوا دئیے اور اس زمانہ میں کوئی نامور اور معروف شخصیت ایسی نہیں چھوڑی جس تک آپ نے یہ خدائی آواز نہ پہنچائی ہو۔اس دعوت سے بیرونی دنیا میں اس وقت بظاہر کوئی خاص جنبش پیدا نہیں ہوئی۔مگر ہندوستان میں جو مذاہب عالم کا عجائب خانہ تھا۔اس نے ایک زبر دست زلزلہ پیدا کر دیا اور غیر مذاہب اس درجہ مبہوت اور دہشت زدہ ہو گئے کہ کسی کو آپ کی دعوت کے مطابق اسلام کی سچائی کا تجربہ کرنے کی جرات ہی نہ ہو سکی۔آتھم صاحب امرتسر کے ایک منجھے ہوئے مشہور پادری تھے۔حضرت اقدس نے انہیں مولوی قطب الدین صاحب کے ذریعہ سے اشتہار بھجوایا تو پادری عماد الدین صاحب اور بعض دوسرے پادری نیز امرت سر کے بعض رؤساء مثلاً غلام حسن ، یوسف شاہ وغیرہ بھی ان کی کو ٹھی میں جمع ہوئے اور پادری آتھم اور دوسرے پادریوں کو قادیان جانے سے روک دیا۔ہندوستان کی کروڑوں کی آبادی میں سے جن لوگوں نے قادیان کی روحانی تجربہ گاہ سے آزمائش پر بظاہر رضامندی ظاہر کی وہ صرف تین تھے۔منشی اند ر من مراد آبادی - پادری سوفٹ۔پنڈت لیکھرام مگر جیسا کہ آئندہ واقعات نے کھول دیا یہ آمادگی بھی محض نمائش اور قریب تھی۔منشی اندر من صاحب مراد آبادی کا فرار منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے اس دعوت کے جواب میں سر ہیرا سنگھ سی ایس آئی مہاراجہ نابھہ کے اشارہ پر پہلے نا بھہ اور پھر لاہور سے حضرت اقدس کو لکھا کہ وہ آسمانی نشان دیکھنے کے لئے ایک سال تک ٹھہرنا منظور کرتے ہیں مگر اس شرط پر کہ سات دن کے اندراندرچوہیں سو روپیہ ان کے لئے سرکاری بینک میں بطور پیشگی جمع کرا دیا جائے۔گو پیشگی رقم کے مطالبہ کا حضرت اقدس کی اصل دعوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مگر حضرت اقدس چونکہ دل سے خواہاں تھے کہ ادیان باطلہ کا کوئی علمبردار میدان امتحان میں آئے اس لئے آپ نے چند ضروری اور ناگزیر شرائط کے ساتھ ان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا اور لاہور میں مقیم اپنے ارا تمندوں یعنی منشی عبد الحق صاحب ، منشی الہی بخش صاحب اکو شٹ اور حافظ محمد یوسف صاحب کو فوری طور پر ہدایت فرمائی کہ وہ مطلوبہ رقم مہیا کر کے منشی صاحب کو اطلاع دیں اور آپ کا جواب بھی ان تک پہنچا دیں۔مقررہ میعاد کے اختتام میں صرف ایک رات باقی تھی۔اس لئے جو نہی حضرت اقدس کا خط لاہور میں پہنچا۔حافظ محمد یوسف صاحب روپیہ کی تلاش میں راتوں رات اپنے ایک اہلحدیث دوست منشی سزاوار خاں صاحب پوسٹ ماسٹر کے ہاں جنرل پوسٹ آفس میں پہنچے اور حضور کی ہدایت کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا روپیہ موجود ہے مگر گھر پر ہے میں