تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 217 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 217

M1Y خلعت ماموریت سے سرفرازی تاریخ احمدیت جلد خدا نے عرش سے انہیں چودھری رستم علی" کے پیارے نام سے یاد کیا۔(الحکم - ۱۰ اپریل ۱۹۰۵ء) آخری وقت میں آپ تبدیل ہو کر گورداسپور میں آگئے تھے جس کی وجہ سے انہیں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہونے کا بہت موقعہ ملتا تھا۔ملازمت سے سبکدوشی کے بعد دیار حبیب میں آگئے۔جہاں حضرت مسیح موعود کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہوئے 11 جنوری ۱۹۰۹ء کو ابدی نیند سو گئے (حیات احمد جلد دوم نمبر سوم صفحہ ۳۶) حضرت اقدس مسیح موعود نے ان کے اخلاص و عقیدت پر خوشنوری کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے۔”یہ ایک جوان صالح اخلاص سے بھرا ہوا میرے اول درجہ کے دوستوں سے ہے ان کے چہرے پر ہی علامت غربت و بے نفسی واخلاص ظاہر ہے کسی ابتلاء کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے"۔(ازالہ اوہام صفحہ ۸۰۶ (A۔Z ۳۴ نهایت وجیہہ اور بلند قامت بزرگ تھے۔یکم جنوری ۱۹۳۶ء کو انتقال فرمایا۔ایک دفعہ جب کہ آپ کشمیر میں ایس۔ڈی۔اد کے طور پر تعینات تھے آپ کو عالم رویا میں خبر دی گئی کہ حضرت مسیح موعود کو آپ کی ضرورت ہے قادیان پہنچے تو معلوم ہوا کہ کتاب نزول امسیح " کی اشاعت روپیہ نہ ہونے کے باعث معرض التوا میں ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت ڈیڑھ ہزار کی رقم جو حج بیت اللہ کے لئے جمع کر رکھی تھی حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔نیز وعدہ کیا کہ طباعت کے بقیہ اخراجات کشمیر جا کر ارسال کر دونگا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان سے جو بے مثال الفت تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نے ایک دفعہ ان کی گردن میں ہاتھ ڈال کر فرمایا۔شاہ صاحب حضرت صاحب جس طرح آپ کے ساتھ محبت کرتے ہیں اسے دیکھ کر خدا کی قسم ہمیں تو رشک آتا ہے "۔آبائی وطن لاہور تھا (احکم ۲۸٬۲۱ جنوری ۱۹۳۹ء) ۳۵- عصائے موسی صفحہ ۳ ۱ یہ صاحب بعد کو اپنے رفقاء سمیت اشد مخالفین میں شامل ہو کر خدا کی قمری تجلی کا شکار ہوئے۔۳۶ تاریخ مرزا صفحه ۵۳ طبع دوم (متولفہ جناب مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری۔ولادت جون ۱۸۶۸ء وفات ۱۹۴۸ء) ، سیرت ثنائی صفحہ ۶۹-۳۹۷ مولفہ عبدالمجید صاحب خادم سوہدروی ناشر دفتر اہلحدیث سوہدرہ ضلع گوجرانوالہ اپریل ۱۹۵۲ء مجسم ایثار و فدائیت 1911 سال کی عمر ہو گی کہ آپ کو کپور تھلہ کے سیشن جج حاجی ولی اللہ صاحب سے براہین احمدیہ مل گئی جسے آپ دوسروں کو سناتے سناتے حضرت مسیح موعود کے والہ وشیدا بن گئے اسی دوران میں جالندھر میں حضرت اقدس کی زیارت نصیب ہوئی کپور تھلہ میں واپس آکر اپنے دوستوں میں سے منشی محمد اروڑ خان صاحب (وفات ۲۵۔اکتوبر ۱۹۱۹ء) اور محمد خان صاحب (وفات جنوری ۱۹۰۴ء) سے اپنے تاثرات بیان کئے تو انہیں بھی اشتیاق پیدا ہو گیا اور پھر جلد ہی یہ تینوں بزرگ بیعت کا عزم لے کر قادیان پہنچے حضرت اقدس نے فرمایا۔مجھے بیعت کا حکم نہیں لیکن ہم سے ملتے رہا کرد چنانچہ اس کے بعد یہ بہت دفعہ قادیان گئے۔اور جب بیعت کا حکم ملا تو شمع احمدیت کے گرد پر دانوں کی طرح جمع ہو گئے لدھیانہ پہنچے اور بیعت کرلی۔اور پھر اخلاص د فدائیت میں مسابقت کی وہ قابل فخر مثال قائم کی کہ عمدہ اول کے صحابہ کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔حضرت اقدس مسیح موعود نے ازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام میں اپنے محسین کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا نمایاں رنگ میں ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ محمد اروڑا خان صاحب کے متعلق فرمایا کہ ان کو اس عاجز سے ایک عشق ہے "۔خان محمد خاں صاحب کی نسبت لکھا ہے کہ و جس قدر انہیں میری نسبت عقیدت وارادت و محبت و نیک ظن ہے میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا اور منشی ظفر احمد صاحب کو ان تعریفی کلمات سے یاد کیا ہے کہ ”یہ جو ان صالح کم گو اور خلوص سے بھر دقیق نہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار و انوار اس میں ظاہر ہیں " تاریخ وفات ۲۰ اگست ۱۹۴۱ء ( حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے خود نوشت حالات و روایات کے لئے ملاحظہ ہو ریویو آف ریلیز اردو جنوری ۱۹۴۲ ء و اصحاب احمد جلد چهارم مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے درویش قادیان) آپ کے تفصیلی حالات جلد سوم میں آئیں گے یہاں صرف انکی پہلی ملاقات کا دلچسپ واقعہ درج کرتا ہوں جو ان کی فراست و بصیرت پر ابدی برہان ہے۔فرمایا کرتے تھے کہ میں ہوشیار پور گیا لیکن حضرت صاحب ہوشیار پور میں (چلہ کشی کے لئے شیخ سر علی صاحب کے مکان میں فروکش تھے۔حامد علی صاحب مکان کے دروازہ پر بیٹھے تھے اور اندر نہیں جانے دیتے تھے مگر باغ میں چھپ کر دروازہ تک پہنچ ہی گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت جلدی جلدی لمبے لمبے قدم اٹھارہے ہیں میں جھٹ پیچھے کو مڑا اور میں نے اس تیز گامی سے سمجھ لیا کہ یہ شخص صادق ہے ضرور اسے کسی دور کی منزل تک پہنچنا ہے۔۲۔دسمبر ۱۹۰۵ء کو رحلت فرمائی (الحکم ۷ / ۱۴