تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 213
تاریخ احمدیت۔جلد ۲۱۲ خلعت ماموریت سے سرفرازی کر ہا میں اس مرزا کے پاس پہنچا۔میرا دل ایسا منقبض اور اس کی شکل سے متنفر تھا کہ میں نے السلام علیک تک بھی نہ کسی کیونکہ میرا دل برداشت ہی نہیں کرتا تھا۔الگ ایک خالی چار پائی پڑی تھی اس پر میں بیٹھ گیا اور دل میں ایسا اضطراب اور تکلیف تھی کہ جس کے بیان کرنے میں وہم ہو تا ہے کہ لوگ مبالغہ نہ سمجھیں۔بہر حال میں وہاں بیٹھ گیا۔دل میں سخت متحیر تھا کہ میں یہاں آیا کیوں۔ایسے اضطراب اور تشویش کی حالت میں اس مرزا نے خود ہی مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں میں نے نہایت روکھے الفاظ اور کبیدہ دل سے کہا کہ پہاڑ کی طرف سے آیا ہوں۔تب اس نے جواب میں کہا کہ آپ کا نام نورالدین ہے ؟ اور آپ جموں سے آئے ہیں؟ اور غالباً آپ مرزا صاحب کو ملنے آئے ہوں گے ؟ بس یہ لفظ تھا جس نے میرے دل کو کسی قدر ٹھنڈا کیا۔اور مجھے یقین ہوا کہ یہ شخص جو مجھے بتایا گیا ہے مرزا صاحب نہیں ہیں۔میرے دل نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ میں اس سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں۔میں نے کہا ہاں اگر آپ مجھے مرزا صاحب کے مکانات کا پتہ دیں تو بہت ہی اچھا ہو گا۔اس پر اس نے ایک آدمی مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجا اور مجھے بتایا کہ ان کا مکان اس مکان سے باہر ہے اتنے میں حضرت اقدس نے اس آدمی کے ہاتھ لکھ بھیجا کہ نماز عصر کے وقت آپ ملاقات کریں۔یہ بات معلوم کر کے میں معا اٹھ کھڑا ہوا اور اس جگہ نہ ٹھہرا"۔چنانچہ آپ اس وقت سیڑھیوں سے اترے تو میں نے دیکھتے ہی دل میں کہا کہ بس یہی مرزا ہے اور اس پر میں سارا ہی قربان ہو جاؤں"۔حضرت اقدس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ میں ہوا خوری کے واسطے جاتا ہوں کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں۔چنانچہ آپ دور تک میرے ساتھ چلے گئے اور مجھے یہ بھی فرمایا کہ امید ہے کہ آپ جلد واپس آجائیں گے حالانکہ میں ملازم تھا اور بیعت وغیرہ کا سلسلہ بھی " نہیں تھا۔چنانچہ میں پھر آگیا۔اور ایسا آیا کہ یہیں کا ہو رہا۔مومن میں ایک فراست ہوتی ہے"۔رستے میں میں نے ایک رؤیا بیان کیا جس میں میں نے نبی کریم اے کو دیکھا تھا اور عرض کیا تھا کہ کیا حضرت ابو ہریرہ کو آپ کی احادیث بہت کثرت سے یاد تھیں؟ اور کیا وہ آپ کی باتوں کو ایک زمانہ بعید تک بھی نہیں بھولا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔میں نے عرض کیا۔کیا کوئی تدبیر ہو سکتی ہے کہ جس سے آپ کی حدیث نہ بھولے آپ نے فرمایا کہ وہ قرآن شریف کی ایک آیت ہے جو میں تمہیں کان میں بتا دیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنا منہ مبارک میرے کان کی طرف جھکایا اور دوسری طرف معاً ایک شخص نور الدین نام میرے شاگرد نے مجھے بیدار کر دیا اور کہا ظہر کا وقت ہے آپ اٹھیں۔