تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 204
تاریخ احمدیت جلدا ۲۰۳ خلعت ماموریت سے سرفرازی مطابق امام مهدی عینی اور نبی اللہ بلکہ گذشتہ تمام انبیاء مرسلین کا بروز کامل قرار دیا گیا ہے بلکہ حدیث میں آنحضرت ﷺ کی امت کے فضائل کے متعلق یہاں تک لکھا ہے کہ "موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے رب مجھ کو اس امت کا نبی بنادیجئے۔ارشاد ہوا اس امت کا نبی اس میں سے ہو گا۔عرض کیا کہ تو مجھ کو ان (محمد ﷺ کی امت میں سے بنادیجئے۔ارشاد ہوا کہ تم پہلے ہو گئے وہ پیچھے ہوں گے۔البتہ تم کو اور ان کو دار لجلال (جنت) میں جمع کر دوں گا"۔ماموریت کے پہلے الہام کے بعد اگلے سال ہی آپ کو مسیح موعود نبی اور نذیر کے نام سے یاد کیا گیا مگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مقام فنائیت اس درجہ کامل تھا کہ آپ کا ذہن پھر بھی اس طرف نہیں گیا کہ آپ کس شان کے حامل ہیں۔اور توجہ بھی کیسے ہوتی جب کہ اپنے لئے کسی عہدے کے خواہاں نہیں تھے اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے تھے چنانچہ خودہی فرماتے ہیں۔اس وقت مجھے مسیح موعود ٹھہرایا گیا جب کہ مجھے بھی خبر نہ تھی کہ میں مسیح موعود ہوں"۔30 یہ صورت مسلسل آٹھ سال تک جاری رہی اس دوران میں آپ سے باصرار درخواست کی گئی کہ جب آپ محمد د وقت ہیں تو اپنے دست مبارک پر ہمیں بیعت کا شرف بخشیں۔لیکن آپ نے یہی جواب دیا میں اذن الہی کے بغیر کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہوں۔پھر جب خدا کا حکم آگیا تب بیعت کی اجازت دی۔اس کے بعد ۱۸۹۰ء میں آپ پر تواتر کے ساتھ یہ حقیقت کھول دی گئی کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام طبعی موت سے فوت ہو چکے ہیں اور آپ کو اللہ تعالٰی نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے۔اس آسمانی حکم کی تعمیل میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوئی تو پورے زور سے کر دیا مگر اب بھی آپ کی تحریرات میں اپنے لئے لفظ ”نبی " کا استعمال مجازی رنگ ہی میں مستعمل رہا کیونکہ حضور ابھی تک عامتہ المسلمین کی طرح یہی مسلک رکھتے تھے کہ نئی شریعت لانا یا شریعت سابقہ کے بعض حصوں کی ترمیم و تنسیخ کرنا یا کم از کم کسی نبی کے فیض کے بغیر براہ راست اس منصب تک پہنچنالازمی ہوتا ہے۔اور آپ تو پیغمبر خدا ﷺ کی غلامی کے طفیل ہی دین اسلام کی تجدید واشاعت کے لئے مامور ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی کفش برداری کو تخت شاہی سے افضل سمجھتے اور اپنے لئے سب سے بڑا فخر قرار دیتے تھے۔لہذا اپنے متعلق حدیث نبوی یا اپنے الہام میں وارد ہونے والے نبی اللہ " کے خطاب کی وضاحت یہ فرمائی کہ اس سے مقصود فقط کثرت مکالمہ و مخاطبہ کا شرف ہے جسے محمد ثیت۔موسوم کرنا چاہیے نہ کہ نبوت سے۔چنانچہ ۱۸۹۰ء سے ۱۹۰۰ ء تک آپ اسی مسلک پر قائم رہے اور اپنے مقام کو جزوی یا ناقص نبوت سے تعبیر کرتے رہے۔لیکن اس کے بعد مکمل رنگ میں آپ پریشان