تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 203
تاریخ احمدیت جلد خلعت ماموریت سے سرفرازی لٹریچر میں یہ نظریہ قطعی طور پر پایا جاتا ہے کہ تیرھویں صدی کا زمانہ حضرت امام مہدی کی پیدائش کا زمانہ ہے جو چودھویں صدی کا کامل مجدد ہو گا۔چنانچہ حدیث نبوى - الأياتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ - کی تشریح میں امت کے مشہور محدث حضرت ملا علی قاری (متوفی ۱۵۷۳ء) نے بالوضاحت لکھا ہے کہ تیرھویں صدی میں امام مہدی پیدا ہوں گے۔(مرقاۃ شرح مشکواۃ جلد پنجم صفحه ۱۸۵ مطبوعہ مصر، اسی طرح بارھویں صدی کے شہرہ آفاق مجدد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (۱۷۰۲-۱۷۷۲) اور حضرت شاہ عبد العزیز (۱۷۴۶-۱۸۲۴) اور حضرت سید اسماعیل شہید (متوفی مئی ۱۸۳۱ء) ایسے بلند پایہ بزرگوں کی قطعی رائے تھی کہ تیرھویں صدی کے شروع میں حضرت مہدی کی پیدائش اور اس کے آخر میں آپ کا ظہور ہو گا۔"ار بعين في احوال المهديين - صفحه ۴۴ مطبوعه مصری تنیج کلکته ۵۱۲۶۸ مولفہ حضرت سید اسماعیل شہید) نامور علماء میں سے نواب صدیق حسن خان صاحب (۱۷۳۵-۱۸۸۹) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی (متوفی ۱۸۱۰ء) اور حضرت حافظ برخوردار صاحب بھی اس خیال کے زبر دست مرید تھے۔ان کے علاوہ امت کے دوسرے علماء و صوفیا ء ولادت مہدی کے زمانہ کی آخری حد تیرھویں صدی تک قرار دیتے آئے ہیں اور کوئی اندازہ اس زمانہ سے آگے نہیں بڑھنے پاتا۔(ملاحظہ ہو " اقتراب الساعة " صفحه ۳۴۵ و " حج الكرامه " صفحه ۳۹۳-۳۹۴) حضرت مسیح موعود ای حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " حدیث " الایات بعد الماتین " کی تشریح بہت سے متقدمین اور متاخرین نے یہی کی ہے۔جو ماتین کے لفظ سے وہ ماتمین مراد ہیں جو الف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد۔اس طرح پر معنے اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیات کبری میں سے ہے تیرھویں صدی میں ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہو گا یہی معنی محققین علماء نے کئے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حکم کیا ہے کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہو جانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے۔چنانچہ اسی بناء پر نیز کئی اور قرائن کے رو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب بھیج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ ” میں بلحاظ قرائن قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی پر مہدی معہود کا ظہور ہوگا اور ان قرائن میں سے ایک یہ ہے کہ تیرھویں صدی میں بہت سے دجالی فتنے ظہور میں آگئے ہیں"۔پس بلا شبہ تیرھویں صدی کے آخر میں مامور ہونے والا محض مجدد کے اسم سے موسوم نہیں ہو سکتا وہ تو ایک مخصوص شان کا موعود ہے اور ان تمام پیشگوئیوں کا مصداق جو اس زمانہ میں آنے والے مامور کے متعلق بتائی گئی تھیں۔یہ موجود قرآنی اشارات کے مطابق رسول اور احادیث نبوی کے