تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 184
تاریخ احمدیت جلدا ١٨٣ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام نے ” براہین براہین احمدیہ کے زمانہ میں حضرت اقدس کی بے سرو سامانی کی تصنیف کے لئے جب قلم اٹھایا تو دشمنان دین کی چیرہ دستیوں اور اسلام کی درد ناک حالت نے آپ کے اندر بجلیاں بھر دیں۔اور آپ نے اسی بے پناہ جوش اور روحانی قوت کے عالم میں اپنے اقتصادی حالات اور مستقبل کے حالات سے بے نیاز ہو کر نہایت قلیل عرصہ میں ایک لاجواب عدیم النظیر کتاب مرتب فرمائی۔لیکن اب جو اس کی اشاعت کا مرحلہ آیا تو قدم قدم پر مشکلات کے بڑے بڑے پہاڑ سد راہ بنے۔آپ شہری آبادی سے دور ایک گمنام لبستی میں رہنے والے ایک گوشہ نشین انسان تھے اور براہین احمدیہ " ایسی ضخیم کتاب جس کی نہایت عمدہ نہایت اعلیٰ اور معیاری طباعت و کتابت کا آپ قطعی فیصلہ کر چکے تھے ، اشاعتی کاموں کا ایک لمبا اور گہرا تجربہ چاہتی تھی جو آپ کو سرے سے حاصل ہی نہیں تھا۔کیونکہ یہ آپ کی پہلی تصنیف تھی۔پھر اس کی اشاعت میں بھی آپ کے مد نظر محض دین مصطفیٰ کی خدمت اور ملت بیضاء کی سربلندی کا پاکیزہ اور بے لوث مقصد تھا۔اور آپ کو یہ ہرگز گوارا نہیں تھا کہ کوئی شخص محض تجارتی نقطہ نظر سے اس کی خریداری اختیار کرے۔آپ کی یہ دلی خواہش تھی کہ عامتہ المسلمین کے ہاتھوں تک یہ کتاب ضرور پہنچ جائے۔اور وہ معاندین اسلام کے مقابل اس کے ناقابل تردید دلائل سے مسلح ہو جائیں۔لیکن آپ عامتہ المسلمین سے جو عموماً غرباء کا طبقہ تھا اصل لاگت سے بہت کم قیمت پر کتاب پہنچانا چاہتے تھے تا ان پر گراں نہ ہو۔بلکہ آپ کا یہاں تک نشاء مبارک تھا کہ عدم استطاعت رکھنے والے طالب حق غیر مسلموں میں اس کی مفت اشاعت کی جائے۔ظاہر ہے کہ ان عظیم الشان عزائم کی تکمیل کے لئے بھاری اخراجات درکار تھے۔لیکن آپ درویٹی کے جس صبر آزما امتحان میں سے گزر رہے تھے اس کے لحاظ سے ان کا مہیا ہو جانا معجزہ سے تو ممکن تھا۔خارجی اور مادی اسباب کے لحاظ سے ممکن نہیں تھا۔آپ کو قانونا دس ہزار سے زائد جائیداد کے مالک تھے مگر عملاً تمام تر خاندانی جائیداد پر آپ کے بڑے بھائی قابض و متصرف تھے اور خود آپ کے پاس کتاب کی چھپوائی کے لئے کچھ روپیہ نہ تھا دوسری طرف پردہ گمنامی تھا اور آپ تھے۔ان نا مساعد حالات میں براہین احمدیہ ایسی ضخیم کتاب زیور طبع سے آراستہ ہوتی تو کیونکر۔اور دنیا آپ کے علم و عرفان سے فیض یاب ہوتی تو کیسے ؟ تائید غیبی کیلئے دعا اور خدائی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تھی دستی کے عالم میں جناب الہی میں تائید غیبی کے لئے دعا کی تو آپ کو بتایا گیا کہ ” بالفعل نہیں " یعنی مسلمانوں کی طرف سے عدم توجہی رہے گی۔لیکن پھر کچھ