تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 183 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 183

تاریخ احمریت- جلدا یر امین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت رہے تھے کہ یہ کتاب گورنمنٹ کے مخالف ہے اور اس کے مولف نے پیشوائی مذہب کے علاوہ پولیٹیکل سرداری کا بھی اس میں دعوی کیا ہے۔اپنے آپ کو مسیح قرار دیا ہے اور اپنے غلبہ اور فتح کی بشارتیں اور اپنے مخالفین (یعنی مخالفین اسلام - ناقل) کی شکست و ہزیمت کی خبریں اس میں درج کی tt ہیں۔دوسرا سبب مولوی محمد حسین صاحب نے یہ بیان کیا کہ : انہوں نے باستعانت بعض معزز اہل اسلام لودھیانہ (جن کی نیک نیتی اور خیر خواہی ملک و سلطنت میں کوئی شک نہیں) بمقابلہ مدرسہ صنعت کاری انجمن رفاہ عام لودھیا نہ ایک مدرسہ قائم کرنا چاہا تھا اور اس مدرسہ کے لئے لودھیانہ میں چندہ جمع ہو رہا تھا کہ انہی دنوں مولف براہین احمدیہ باستد عا اہل اسلام لودھیانہ میں پہنچ گئے۔اور وہاں کے مسلمان ان کے فیض زیارت اور شرف صحبت سے مشرف ہوئے۔ان کی برکات داثر صحت کو دیکھ کر اکثر چندہ والے ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔اور اس چندہ کے بہت سے روپیہ طبع و اشاعت براہین احمدیہ کے لئے مولف کی خدمت میں پیشکش کئے گئے اور مولوی صاحبان نے کور تہی دست ہو کر ہاتھ ملتے رہ گئے۔اس امر نے بھی ان حضرات کو بھڑکایا اور مولف کی تکفیر پر آمادہ کیا۔جن کو ان باتوں کے صدق میں شک ہو وہ ہم کو اس امر سے مطلع کرے ہم لودھیانہ سے عمدہ اور واضح طور پر ان باتوں کی تصدیق کرا دیں گے"۔یہ حضرات اپنی سرگرمیوں کا دائرہ لودھیانہ سے دلی۔دیوبند اور گنگوہ تک پھیلانے کے لئے مدرسہ دیوبند کی تقریب دستار بندی میں بھی پہنچے اور بڑے بڑے مرصع فتوے لکھ کر دیو بندی اور گنگوہی علماء کے سامنے پیش کئے اور ان پر تصدیق کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔مگر کوئی ایک عالم بھی تکفیر بازی میں ملوث ہونے کے لئے تیار نہ ہوا۔چنانچہ خود مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا بیان ہے کہ موقع جلسه دستار بندی مدرسہ دیو بند پر یہ حضرات بھی وہاں پہنچے اور لمبے لمبے فتویٰ تکفیر مولف براہین احمدیہ کے لکھ کر لے گئے اور علماء دیو بندو گنگوہ وغیرہ سے ان پر دستخط و مواہیر ثبت کرنے کے خواستگار ہوئے۔مگر چونکہ وہ کفران کا اپنا خانہ ساز کفر تھا جس کا کتاب براہین احمدیہ میں کچھ اثر پایا نہ جاتا تھا اندا دیو بند و گنگوہ نے ان فتوؤں پر مرد ستخط کرنے سے انکار کیا۔اور ان لوگوں کو تکثیر مولف سے روکا اور کوئی ایک عالم بھی ان کا اس تکفیر میں موافق نہ ہوا۔جس سے وہ بہت ناخوش ہوئے اور بلا ملاقات وہاں سے بھاگے۔اور كَانَهُمْ حُرُ مُسْتَنْفِرَةٌ فَرَتْ مِنْ قَسُورَةٍ کے مصداق ہے"۔