تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 142
تاریخ احمدیت جلدا IM والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات میں ہیضہ پھوٹ پڑا۔آپ ان دنوں بٹالہ میں تھے۔جونہی آپ کو اطلاع ملی آپ فورا قادیان پہنچے اور ان کی جھونپڑیوں کے پاس آکر ٹھہر گئے اور نہایت شفقت آمیز لہجہ میں ان کو تسلی دی اور وہاں ہی کھڑے کھڑے حکم دیا کہ قادیان کے عطار آملہ، کٹے ، گڑ اور نمک لیتے آویں۔چنانچہ تعمیل کی گئی۔اور آپ نے یہ اشیاء مٹکوں میں ڈلوادیں اور ہدایت کی کہ جو چاہے گڑ ڈال کر پیئے اور جو چاہے نمکین پیئے۔دوسرے دن قادیان کی فضا ہیضہ کی وباء سے صاف ہو گئی۔غرباء کے حقوق بحال کرنے اور ان کی ضروریات پورا کرنے کے لئے وہ حکومت کے بڑے بڑے افسروں تک پہنچتے اور اپنے مطالبات منوا کر آتے تھے۔ایک مرتبہ بٹالہ کے ایک حجام نے ان سے درخواست کی کہ اس کی معافی ضبط ہو گئی ہے۔فنانشل کمشنر (ایجرٹن) سے (جو بعد کو لیفٹیننٹ گورنر پنجاب ہو گئے تھے میری سفارش کر دیں۔چنانچہ آپ اسے ساتھ لے کر لاہور گئے۔اس وقت شمالا مار باغ میں جلسہ ہو رہا تھا۔جب جلسہ ختم ہوا تو آپ نے فنانشل کمشنر سے کہا کہ آپ اس شخص کی بانہ پکڑ لیں۔فنانشل کمشنر نے ہر چند کہا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ مگر آپ نے یہی فرمایا کہ نہیں اس کی بانہ پکڑ لو۔آخر وہ آپ کے اصرار پر مجبور ہوا۔جب انہوں نے ہاتھ پکڑ لیا تب کہا کہ ہمارے ملک میں دستور ہے کہ جس کی بانسہ یعنی ہاتھ پکڑ لیتے ہیں پھر خواہ سر چلا جائے اس کو چھوڑتے نہیں۔اب آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا ہے اس کی لاج رکھنا اور پھر کہا کہ اس کی معافی ضبط ہو گئی ہے کیا معافیاں دے کر ضبط کیا کرتے ہیں؟ فنانشل کمشنر کو آپ کے جذبہ انسانیت کے سامنے سپر انداز ہونا پڑا اور اس نے دوسرے ہی دن حجام کی مسل طلب کر کے معافی بحال کر دی حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب کے حالات زندگی میں دنیا داری رحمت خداوندی پر نظر کار ایک صاف نمایاں ہو تا تھا۔اس اعتبار سے دو حضرت صیح موجود رنگ وہ علیہ الصلوۃ و السلام کی طبیعت کے بالکل ضد واقع ہوئے تھے جس کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے وہ اکثر اپنا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔کردیم تا کرونی ہمہ عمر اے والے ہما کہ ما چه کردیم لیکن اپنی تھی دامنی کے مقابل خدائی رحمتوں کی وسعتوں کا احساس ہمیشہ ان کے دل و دماغ پر حاوی رہتا تھا اور وہ اس کے آستانہ سے کبھی مایوس نہیں ہوتے تھے۔ایک دفعہ ایک بغدادی مولوی صاحب قادیان آئے تو آپ نے ان کی بڑی عزت کی اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا انہوں نے کہا مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے۔جواب دیا قصور ہے مگر خاموش ہونے کی بجائے اور زیادہ اصرار سے پوچھنے لگے کہ آپ نماز نہیں پڑھتے اور آپ ہر مرتبہ کہہ دیتے کہ قصور ہے۔آخر