تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 141 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 141

تاریخ احمدیت جلدا ۱۴۰ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے"۔ان کی اولوالعزمی اور جوانمردی زباں زد خلائق تھی۔جب ان کے اولوالعزمی اور جوانمردی والد کپور تھلہ میں انتقال فرما گئے تو ان کی عمر صرف سولہ سترہ سال کی تھی۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کی نعش مبارک قادیان ہی میں دفن کریں گے۔لوگوں نے کہا کہ وہاں سکھ قابض ہیں جو شدید مزاحمت کریں گے مگر وہ نہ مانے اور لاش لے کر راتوں رات قادیان پہنچے۔یہاں سکھ مانع ہوئے مگر رعایا کو ان سے ہمدردی ہو گئی اور وہ اپنے والد کو اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس وقت بے سرو سامانی کی یہ حالت تھی کہ کسی سے پانچ سیر دانے قرض لے کر گھر میں دیئے اور گھر سے پیدل ہی طبابت سیکھنے کے لئے دلی روانہ ہو گئے کہ عزت پا کر وطن واپس آؤں گا۔وہاں قیام و طعام کی بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور فاقوں تک نوبت پہنچی۔نگرده پوری جوانمردی استقلال اور دل جمعی سے تحصیل علم طب میں مشغول رہے اور ولی کے مشہور محمد شریف صاحب سے طبابت میں یہاں تک دستگاہ حاصل کرلی کہ ان کا شمار چوٹی کے حکماء میں ہونے لگا۔واپس آئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کی گم گشتہ ریاست کے ۸۴ گاؤں میں سے سات واگذار کردیئے اور فوج میں جنرل کے عہدہ پر مقرر کر دیا۔استغناء اور خودداری استغناء اور خودداری کا یہ جذبہ عمر کم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا اور آخری عمر میں عروج تک پہنچ گیا۔چنانچہ لکھا ہے کہ مرض الموت میں آپ وفات سے صرف ایک گھنٹہ پہلے قدیمہ کی طرف جانے کے لئے اٹھے تو ایک لازم نے آپ کو سمارا دینا چاہا مگر آپ نے پیرانہ سالی اور مرض کی شدت کے باوجود نہایت سختی سے اس کا ہاتھ جھٹک کر پرے کر دیا اور فرمایا کہ مجھے سہارا کیوں دیتے ہو"۔اس شاہانہ مزاج علو ہمتی اور جلالت شان کے باوجو د ده نهایت با مروت اور وسیع الاخلاق انسان تھے۔جن کے اعلیٰ کیریکٹر اور وسعت حوصلہ کے متعدد واقعات ہیں۔نیک نیتی، صاف باطنی اور حسن خلق کی جیتی جاگتی تصویر تھے اور خدمت خلق ان کا حسن خلق قومی شعار تھا۔وہ ایک موسم میں غرباء میں غلہ کی تقسیم کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے باوجودیکہ تحصیل حکمت میں انہوں نے بڑی بڑی مشکلات برداشت کی تھیں اور غریب الوطنی میں برداشت کی تھیں لیکن انہوں نے فن طبابت کو بطور پیشہ اختیار کرنا کبھی گوارا نہیں کیا۔اور ان کی پوری زندگی میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا جس میں ان کا حکمت کے لئے معاوضہ وصول کرنا ثابت ہو ان کا چشمہ فیض ہر غریب اور فقیر کے لئے جاری رہتا تھا۔ایک مرتبہ قادیان میں بھنگیوں