تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 129 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 129

تاریخ احمدیت۔جلد IPA قلمی جہاد کا آغاز میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا دفن کئے گئے۔اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ وَادْخِلْهُ الْجَنَّةَ آمين ای یا پچاسی برس کے قریب عمر پائی " - 10 روزوں کا عظیم مجاہدہ اور عالم روحانی کی سیر تلاوت قرآن کریم ، ذکر الی اصلاح خلق ، خلوت گزینی اور درود شریف کی کثرت آپ کی زندگی کا معمول بن چکا تھا۔اب ۱۸۷۵ء کے آخر میں جناب الہی سے آپ کو روزوں کے ایک عظیم مجاہدہ کا از شاد ہوا۔چنانچہ اس کی تعمیل میں آپ نے آٹھ یا نو ماہ تک مسلسل روزے رکھے۔روزوں کا یہ مجاہدہ بالکل مخفی طور پر اختیار کیا گیا اور اس کے لئے حضور نے یہ التزام فرمایا کہ گھر سے جو کھانا آتا وہ بعض بچوں میں تقسیم فرما دیتے اور خود روٹی کے چند لقموں یا چنوں پر گزار کر لیتے۔یہ دن انوار الٹی کی بارش کے تھے جن میں آپ کو عالم روحانی کی سیر کرائی گئی اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کے مختلف نظارے دکھائے گئے بعض گذشتہ انبیاء اور چوٹی کے صلحاء امت سے ملاقاتوں کے علاوہ آنحضرت حضرت سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا حضرت علی حسن و حسین علیہم السلام کی عین بیداری میں زیارت بھی نصیب ہوئی۔یہ گویا آپ ایسے بے نظیر عاشق رسول کا ایک معراج تھا جو مسلسل کئی ماہ تک جاری رہا۔آنحضرت ا تو شب معراج میں خدا تک پہنچے تھے اور آپ اس روحانی سیر میں مصطفیٰ تک پہنچے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود تحریر فرماتے ہیں: حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ شمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا۔اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا نہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا۔مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے۔پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانه نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا۔اور اس طرح تمام دن روزہ میں گذار تا اور بجز خدا تعالی کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھالیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں۔بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں۔سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا۔یہاں تک کہ میں تمام رات دن