تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 128 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 128

تاریخ احمدیت جلدا ۱۲۷ قلمی جہاد کا آغاز گھر سے چھوٹی سی گلی مسجد کو جاتی تھی اس راستہ سے گذر کر مسجد میں جاتے تھے صرف اکیلے ہی ہوا کرتے تھے اگر دو تین ہو جاتے تو مرزا صاحب جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے اور اگر اکیلے ہوتے تو اکیلے ہی پڑھ لیتے۔ان دنوں قادیان میں مسلمان عموماً بے نماز تھے۔قمار بازی میں مشغول رہتے تھے۔مسلمانوں کی آبادی کم تھی۔نیکی تقویٰ اور طہارت میں مرزا غلام احمد صاحب اور مرزا کمال الدین صاحب اور میر عابد علی صاحب مسلمانوں میں مشہور تھے۔مرزا کمال الدین فقیری طریقہ پر تھے۔معلوم نہیں کہ وہ نماز کب پڑھا کرتے تھے۔مگر مرزا غلام احمد صاحب کو ہم نے پنج وقت نماز پڑھتے دیکھا ہے"۔۲۴۱ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے والد ماجد کے آخری عمر کے جذبات کا نقشہ کھینچتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کا پس منظر یوں بیان فرماتے ہیں: حضرت عزت جل شانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ا کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے۔تو میں اس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا۔جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئے۔یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ کھوتا ہے۔یہ دیکھ کر میں چشم پر آب ہو گیا اور پھر آنکھ کھل گئی۔اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیا داری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپے کی طرح ہے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخری حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں ہی گزرا اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر نا کامی تھی۔اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پر دار ا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کرتے تھے جس کا ایک مصرعہ راقم کو بھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ع "جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے" اور یہ غم اور درد ان کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے۔اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو تا خدائے عزو جل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت ہمہ وجوہ مکمل ہو گئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے اور اسی مسجد کے اس گوشہ