تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 91 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 91

تاریخ احمدیت جلد 9۔قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام پھیل سکتی ہے جہاں ابھی اس کا نام تک نہیں پہنچا۔وسط ایشیا میں عیسائیت کے تبلیغی کام کے لئے پنجاب ایک قدرتی بنیاد (Base) معلوم ہوتا پنجاب کو صلیب کے جھنڈے تلے جمع کرنے کے لئے مرکزی مشن ابتد اولدھیانہ میں قائم کیا گیا۔جس کے بعد پنجاب میں اگر چہ دیکھتے ہی دیکھتے صوبہ کے تمام مشہور شہروں میں مسیحی مشنوں کا قیام عمل میں آیا۔گرجے تعمیر ہوئے اور لٹریچر کی اشاعت شروع ہو گئی۔سیالکوٹ مشن کی خصوصیت لیکن سیالکوٹ مشن کو ان میں ایک بھاری خصوصیت حاصل تھی کیونکہ یہ مشن (جو اسکاچ مشن تھا) ملک کی ایک دفاعی سکیم کے ماتحت جاری ہوا تھا جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اسے فوجی افسروں کے مشورہ اور ایماء پر قائم Fi- کیا گیا تھا۔چنانچہ ایک چرچ مشنری معترف ہیں کہ : ۱۸۵۷ء میں فوجی افسروں کی درخواست پر سکاچ مشن نے پنجاب کا رخ کیا جہاں دس سال کے اندر سیالکوٹ کو مرکز بنا کر گرد و نواح کے پچاس میل دائرہ کے شہروں اور قصبوں میں سکول ، یتیم خانے اور ڈسپنسریاں قائم کر دیں اور گردو پیش کے گاؤں میں تبلیغ کی جانے لگی " چنانچہ عیسائیت نے بالخصوص سیالکوٹ کے حلقہ میں دس سال کے اند ریعنی ۱۸۶۶ء تک اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔دراصل پورے پنجاب میں سیالکوٹ ہی ایک ایسا مقام تھا جس نے انگریزوں کے خلاف بغاوت میں ڈٹ کر حصہ لیا تھا۔اس لئے انگریزوں کا قدرتی طور پر مفاد اسی میں تھا کہ پنجاب کے اس بازوئے شمشیر زان" کو مفلوج کرنے کے لئے عیسائیت کی بکثرت اشاعت کریں۔ملکہ وکٹوریہ نے ۱۸۵۷ء کے انہی واقعات سے متاثر ہو کر عفو عام مساوات اور مذہبی آزادی کا ایک تاریخی اعلان کیا۔جس کی رو سے ہندوستان میں ہر مذہب وملت کو اپنے دینی عقائد پر عملدرآمد کرنے اور اشاعت و تبلیغ کرنے کی مکمل اجازت دی گئی تھی۔انگریزی حکومت سیاسی لحاظ سے خواہ کس قدر فتنوں کے بہالانے کا باعث ہوئی ملکہ کا یہ تاریخی اعلان ملک کے اہل فہم اور دینی مزاج رکھنے والے سنجیدہ طبقوں میں تشکر کے گہرے جذبات سے سنا گیا۔یہ مذہبی آزادی ہر فرقہ کے لئے مسادی تھی جس سے ہر فرقہ نے اپنے مذہب کی ترقی و اشاعت کے لئے فائدہ اٹھایا۔لیکن انگریزی حکومت بھی فرقوں کو نہ ہی آزادی دینے کے بعد اگر عیسائیت کی پشت پناہی کا خیال ترک کر دیتی تو اسے اپنی موت پر دستخط کرنا پڑتے۔وہ بخوبی جانتی تھی کہ عیسائیت انگریزی اقتدار کا سہارا لئے بغیر اس برق رفتاری سے ہندوستان پر چھا نہیں سکتی۔جس کا انگریزی حکومت کے مفاد تقاضا کرتے ہیں۔