تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 90 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 90

تاریخ احمدیت جلد ٨٩ قیام سیالکوٹ اور تاریخ اسلام تر قوت تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عظیم الشان کام کی تکمیل میں صرف کرنی چاہئے اور اس میں کی طرح تساہل نہیں کرنا چاہئے " ہنگامہ ۵۷ء کے فرد ہوتے ہی انگریزی حکمرانوں نے جس امر کی طرف مسلسل توجہ دی وہ تبلیغ عیسائیت کا معاملہ تھا ایک چرچ مشنری ہندوستان میں عیسائیت کے فروغ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ندر کی آگ کے بعد زیادہ مستحکم طور پر ایس پی جی نے دہلی میں اور سی ایم ایس نے لکھنو میں اپنے مرکز قائم کئے۔اودھ میں مشنری خدمت کے لئے ہندی لارنس چیف کمشنر نے لکھنو میں لکھا جنہوں نے بنارس سے لیوپولٹ کو بھیج دیا۔اور ۲۴۔ستمبر ۱۸۵۸ء کو منگمری نے ایک جلسہ کر کے ۵,۰۰۰ پونڈ جمع کرلئے اور اودھ مشن کو تقویت پہنچائی"۔۱۸۶۲ء میں انگلستان کے وزیر اعظم لارڈ پا مرسٹن اور وزیر ہند چارلس وڈ کی خدمت میں ایک وفد پیش ہوا جس میں دار العلوم اور دار الامراء کے رکن اور دوسرے بڑے بڑے لوگ شامل تھے۔انگلستان کے سب سے بڑے پادری آرچ بشپ آف کنٹریری نے اس وفد کا تعارف کرایا۔وزیر ہند نے اس وفد سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ : میرا یہ ایمان ہے کہ ہر وہ نیا عیسائی جو ہندوستان میں عیسائیت قبول کرتا ہے انگلستان کے ساتھ ایک نیا رابطہ اتحاد بنتا ہے اور ایمپائر کے استحکام کے لئے ایک نیا ذریعہ ہے" وزیر اعظم لارڈ پا مرسٹن نے یہ بھی کہا کہ : میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اپنے مقصد میں متحد ہیں۔یہ ہمارا فرض ہی نہیں بلکہ خود ہمارا مفاد بھی اس امر سے وابستہ ہے کہ ہم عیسائیت کی تبلیغ کو جہاں تک بھی ہو سکے فروغ دیں۔اور ہندوستان کے کونے کونے میں اس کو پھیلا دیں " ان الفاظ کے بعد اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں رہ جانا کہ ہندوستان سے انگلینڈ تک کے سب ہی انگریز افسر اپنی حکومت کے استحکام کا تمام تر راز عیسائیت کے فروغ میں سمجھتے تھے۔پنجاب کو عیسائیت کیلئے قدرتی BASE قرار دیا گیا سبھی مشنریوں کی رپورنوں سے مسیحی ثابت ہے کہ وہ وسط ایشیا میں عیسائیت کی ترقی کے لئے پنجاب کو قدرتی بنیاد (Base) یقین کرتے تھے۔چنانچہ رابرٹ کلارک نے لکھا ہے: پنجاب کی سرحدی لائن سے اور اسے اپنے کام کی بنیاد (Base) بنا کر عیسائیت ان مقامات تک