لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 65
65 تعلیمات پر مخالفین کی طرف سے کئے جاتے تھے۔جب بارہ بج گئے اور ایک گھنٹہ تقریر ہو چکی تو حضور نے حاضرین سے دریافت فرمایا کہ اب کھانے کا وقت گزرا جاتا ہے چاہو تو میں اپنی تقریرہ بند کر دوں مگر اکثر لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ یہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں۔لیکن یہ روحانی غذا ہر روز کہاں نصیب ہوتی ہے۔پس حضور تقریر جاری رکھیں۔آپ کی یہ معرکۃ الآرا تقریر ایک بجے بعد دو پہر ختم ہوئی۔اس کے بعد حضرت اقدس مہمانوں سمیت جناب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے مکان کے صحن میں جو چند قدم کے فاصلہ پر تھا کھانے کیلئے تشریف لے گئے۔اخبار عام کی غلط فہمی کا ازالہ بذریعہ خط حضرت اقدس کی اس تقریر کی جور پورٹ ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کے اخبار ” عام“ میں شائع ہوئی۔اس میں چونکہ غلط رپورٹ درج کرتے ہوئے یہ لکھا گیا تھا کہ گویا حضور نے دعویٰ نبوت کو واپس لے لیا ہے حالانکہ حضور نے تو صرف یہ فرمایا تھا کہ میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجودہ مفاسد کے باعث خدا نے مجھے بھیجا ہے اور میں اس امر کا اخفا نہیں کر سکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطا کیا گیا ہے اور خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے اسی کا نام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں یہ تو نزاع لفظی ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے۔”دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قولوا انه خاتم النبین ولا تقولوا لانبی بعدہ اس امر کی صراحت کرتا ہے۔نبوت اگر اسلام میں موقوف ہو چکی ہے۔تو یقین جانو کہ اسلام بھی مر گیا ہے اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے، ۴۴ اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ اصل حقیقت کا اظہار کیا جائے۔چنانچہ حضور نے ایڈیٹر صاحب اخبار عام کو ایک خط لکھا جس میں تحریر فرمایا کہ دو پر چہ اخبار عام ۲۳۔مئی ۱۹۰۸ء کے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا میں نے جلسہ دعوت میں نبوت سے انکار کیا۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ