لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 61
61 لاہور میں آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر قیام فرمایا اور خواجہ صاحب کے مکان کو مرجع خلائق بنا دیا۔احمدی اور غیر احمدی احباب حضور کی زیارت کو آنے لگے۔وہاں چونکہ قیام کا ارادہ ذرا لمبا ہو گیا اس لئے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب ، حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی اور دیگر احباب بھی لاہور پہنچ گئے۔اخبار بدر کا دفتر بھی عارضی طور پر لاہور میں میاں نبی بخش صاحب احمدی کے مکان میں منتقل ہو گیا تا کہ تازہ بتازہ خبریں احباب تک پہنچ سکیں۔حضرت مولاناحکیم نورالدین صاحب نے احمد یہ بلڈنگس کے میدان میں جہاں اب مسجد ہے روزانہ قرآن کریم کا درس جاری فرما دیا۔نماز جمعہ کا انتظام بھی اسی جگہ شامیانہ لگا کر کیا گیا۔حضور کی لاہور آمد کی خبر سن کر بیر ونجات سے بھی کثرت کے ساتھ احباب تشریف لائے تھے۔گواحباب کے قیام و طعام کے جملہ انتظامات جماعت لاہور نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے مگر اس کے بوجھ کو ہلکا کرنے کیلئے چند دن بعد ایک نانبائی کی صاف اور ستھری دکان کا بھی انتظام کر لیا گیا تھا۔لا ہور میں مخالفت کا زور لا ہور میں مخالفت کا بڑا زور تھا اور حضرت اقدس کے لاہور پہنچنے پر تو یہ مخالفت اور تیز ہوگئی۔روزانہ آپ کی فرودگاہ کے سامنے شریر اور بدظن لوگ اڈہ جما کر نہایت ہی گندے اور اشتعال انگیز لیکچر دینے لگے۔جماعت کے کچھ احباب لوگوں کی ان شرارتوں کو دیکھ کر سخت پیچ و تاب کھاتے تھے۔جس پر حضور نے احباب کو جمع کر کے یہ نصیحت فرمائی کہ ان گالیوں کو آپ لوگ صبر سے برداشت کریں اور ضبط نفس سے کام لیں۔مغلوب الغضب انسان بہادر نہیں ہوتا۔بہادر وہ ہے جو غصہ کو پی کر اپنے نفس پر قابو حاصل کر کے دکھاوے وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ خدام نے آپ کی نصیحتوں پر عمل کیا اور بہت صبر سے کام لیا۔بداخلاق لوگ تو ان نا معقول حرکات میں مبتلا تھے لیکن شریف طبقہ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا خیال پیدا کیا اور وہ پے در پے حضور کے پاس آتے اور فائدہ اٹھاتے رہے۔اسی دوران میں 9 مئی ۱۹۰۸ ء کو آپ کو پھر الہام ہوا: الرَّحِيل ثُمَّ الرَّحِيل۔انّ الله يحمل كلَّ حِمل یعنی کوچ اور پھر کوچ۔اللہ تعالیٰ سارا بوجھ خود اٹھا لے گا۔