لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 60
60 حضرت خلیفہ اول اس وقت سر جھکائے آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔وہ جماعت کے ایک بڑے آدمی تھے مگر وہ بھی سر ڈالے بیٹھے رہے۔آپ بار بار فرماتے کہ صلى الله تمہاری غیرت نے کیونکر برداشت کر لیا کہ تم اس جگہ پر بیٹھے رہو جہاں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہو رہی ہے۔تب مولوی محمد احسن صاحب امروہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور جس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کی ایک ناراضگی کے موقعہ پر یہ الفاظ کہے تھے کہ رضيت بالله ربا و بالا سلام ديناً وبمحمد رسولاً۔اسی قسم کے الفاظ انہوں نے کہے اور پھر کہا حضور ذہول ہو گیا۔یعنی ہر آدمی سے بعض موقعوں پر غلطی ہو جاتی ہے۔ہم سے بھی ذہول کے ماتحت یہ غلطی ہوئی ہے حضور در گذر فرما ئیں۔آخر بہت دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا غصہ فرو ہوا اور آپ نے اس غلطی کو معاف فرمایا۔۳۹ آخری سفر لاہور۔۲۷/ اپریل ۱۹۰۸ء اب ہم لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا آخری واقعہ لکھتے ہیں۔لاکھوں آدمی لاہور میں آئے لیکن مذہبی رہنماؤں میں سب سے زیادہ اہم شخصیت آپ ہی کی تھی جس کی لاہور میں اتنی مرتبہ آمد ورفت رہی۔اپریل ۱۹۰۸ء میں حضرت ام المؤمنین علیہا السلام کی طبیعت علیل رہتی تھی۔اس لئے انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ لاہور جا کر کسی قابل لیڈی ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج ہونا چاہئے۔حضرت اقدس کو غالباً اپنی طبیعت کے کسی مخفی اثر کے ماتحت ان ایام میں سفر اختیار کرنے میں تامل تھا مگر حضرت ام المؤمنین علیہا السلام کے اصرار پر حضور تیار ہو گئے۔۲۶۔اپریل ۱۹۰۸ء کو علی الصبح ۴ بجے حضور کو الہام ہوا۔مباش ایمن از بازی روزگار اس پر اس روز حضور نے توقف اختیار فرمایا اور ۲۷۔اپریل ۱۹۰۸ ء کو لاہور کیلئے روانہ ہو گئے۔جب حضور بٹالہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آج ریز روگاڑی کا انتظام نہیں ہو سکتا۔اس پر آپ نے پہلے تو واپس قادیان جانے کا ارادہ فرمایا۔مگر پھر کچھ سوچ کر بٹالہ میں ہی ریز روگاڑی کے انتظار میں ٹھہر گئے۔۲۹۔اپریل ۱۹۰۸ ء کو جو گاڑی ملی تو آپ اس میں لا ہور کو روانہ ہو گئے۔