لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 576
576 اسی طرح ۳۰ ستمبر ۱۹۵۴ء کے پرچہ میں مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کے کام کی جو ر پورٹ درج ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مجلس نے ریلیف کے کام میں مدد دینے کے لئے حکومت پنجاب کو اپنی خدمات پیش کر دیں۔مجلس کی امدادی پارٹیوں نے متعدد نواحی بستیوں میں کثیر مقدار میں میٹھے چنے اور دیگر خشک اشیا تقسیم کیں۔۲۔اکتوبر کے الفضل سے ظاہر ہے کہ مجلس نے چھ نواحی بستیوں اور دیہات میں بیماروں کے لئے مفت دوائیں تقسیم کیں اور سیلاب زدگان کی شکایات بھی متعلقہ حکام تک پہنچا ئیں۔مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کا کام دیکھنے کے لئے محترم جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت لاہور نے بھی سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کیا۔حضرت امیر المومنین کی طرف سے عطیہ اور اظہار خوشنودی سب سے بڑھ کر یہ کہ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خدام الاحمدیہ لا ہور کے کام سے خوش ہو کر انہیں پانچ صد روپیہ کا عطیہ دیا۔" اور پرائیویٹ سیکرٹری نے ایک خط کے ذریعہ مکرم ۱۴۰ قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور کو حضور کی خوشنودی کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا: ملت میں شائع شدہ دوران سیلاب میں خدام الاحمدیہ لاہور کی خدمت خلق کی رپورٹ ملاحظہ فرما کر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ خدام کو شکر یہ نیز فرمایا کہ اس قسم کی خدمات اسلامی روح کو بڑھاتی ہیں۔جزاکم الله واللهم زد فزذا نیز خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اکتوبر ۱۹۵۴ء میں فرمایا : ” اس دفعہ لاہور کی جماعت نے قربانی کا اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور وہاں کے خدام نے قابل تعریف کام کیا ہے۔مجھے اس بات سے خوشی ہوئی کہ اس دفعہ ان میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے مصیبت زدگان کی خوب مدد کی ہے اور انہوں نے ان مکانوں میں لوگوں کو پناہ دی ہے جنہیں گذشتہ فسادات میں جلانے کا پروگرام بنایا گیا تھا اور جن لوگوں کو اب پناہ دی گئی ہے وہ ان کو جلانے آئے تھے ، ۱۴۲