لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 565 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 565

565 احرار ڈیفنس کانفرنس“ کے نام سے ہوا۔اس اجتماع میں انہوں نے اپنی سیاسی حیثیت کو خیر باد کہہ کر محض مذہبی حیثیت سے کام کرنے کا اعلان کیا چنانچہ اس کے بعد انہوں نے مغربی پاکستان کے تمام قابل ذکر شہروں میں تبلیغی کا نفرنسیں منعقد کرنا شروع کر دیں اور آہستہ آہستہ اختلافی مسائل کے ساتھ ساتھ احمد یوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو وزارتِ خارجہ کے منصب جلیلہ سے ہٹانے کے مطالبات بھی پیش کرنا شروع کر دئیے۔میجر محمود احمد صاحب کی شہادت۔11۔اگست ۱۹۴۸ء نوبت با بنجار رسید کہ عوام میں اشتعال انگیز تقریریں کر کے احمدیوں کے خلاف جبر وتشد د پراکسانا ان کا عام معمول ہو گیا۔چنانچہ ا اگست ۱۹۴۸ء کو کوئٹہ میں ختم نبوت“ کے موضوع پر ریلوے کے مسلم ملازمین ایک جلسہ کروا ر ہے تھے جس میں علماء احرار نے اس قدراشتعال انگیزی کی کہ ایک احمدی ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب جو ایک مریض کو دیکھنے کے بعد واپس آتے ہوئے جلسہ گاہ کے پاس سے گذرے۔اتفاق سے ان کی موٹر کا رجلسہ گاہ کے قریب ٹھہر گئی۔ابھی وہ دوبارہ کار چلانے کی کوشش میں مصروف تھے کہ جلسہ گاہ سے نکل کر ایک ہجوم نے ان کے ارد گر دگھیرا ڈال لیا۔میجر صاحب کو کار سے گھسیٹ کر نیچے اتارا اور پتھر اور چھرے مار مار کر انہیں شہید کر دیا۔انا لله و انا اليه راجعون۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت میں اس واقعہ کے ذکر میں لکھا ہے کہ : ان کی پوری انتڑیاں پیٹ سے باہر نکل آئی تھیں۔ان کی نعش کے پوسٹ مارٹم معائنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم پر کند اور تیز دھار والے ہتھیاروں سے لگائے گئے چھیں زخم تھے اور موت ایک تو صدمے سے اور دوسرے داخلی جریان خون سے واقع ہوئی۔جو بائیں پھیپھڑے بائیں گردے اور جگر کے دائیں کنارے کے زخموں سے جاری ہوا تھا۔کوئی شخص بھی اسلامی شجاعت کے اس کارنامے کی نیک نامی لینے پر آمادہ نہ ہوا اور بیشمار عینی شاہدوں میں سے ایک بھی ایسا نہ نکلا جو ان ” غازیوں کی نشاندہی کر سکتا یا کرنے کا خواہشمند ہوتا جن سے یہ بہادرانہ قتل صادر ہوا تھا۔لہذا اصل مجرم شناخت نہ کئے جا سکے اور مقدمہ بے سراغ ہی داخل دفتر کر دیا گیا۔۱۲۷