لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 564
564 مجلس احرار کا جماعت احمدیہ کا خلاف پروپیگنڈا۔۱۹۵۲ء جیسا کہ تحقیقاتی رپورٹ سے ظاہر ہے شروع شروع میں احراری لیڈ ر کانگرس کے ساتھ تھے مگر ہم مئی ۱۹۳۱ء کو لاہور میں ایک جلسہ کر کے انہوں نے بعض مخصوص فوائد حاصل کرنے کیلئے مجلس احرار کی بنیا درکھ دی اور اسی سال انہوں نے کشمیر کمیٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر ۱۴۔اگست کو یوم کشمیر منایا۔اور اس سے دوسرے دن اعلان کر دیا کہ انہوں نے کشمیری بھائیوں کی حمایت میں تحریک کا آغاز کر دیا ہے چنانچہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو مولوی مظہر علی صاحب اظہر کی سرکردگی میں ایک سو رضا کاروں کا جتھا جموں کی طرف روانہ ہو گیا۔اس اقدام سے عوام میں ان کو خاص شہرت حاصل ہو گئی۔۱۲۵ احرار کا مطمع نظر شروع سے یہ تھا کہ اس ملک میں اگر وہ نمایاں حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ مذہبی لبادہ اوڑھ کر جماعت احمدیہ کی مخالفت کی جائے اور اس طرح عوام الناس کے جذبات سے کھیل کر انہیں اپنا ہمنوا بنا لیا جائے۔چنا نچہ انہوں نے اس ملک کے طول و عرض میں جماعت احمدیہ کے خلاف جلسے کرنا شروع کر دئیے۔۱۹۳۴ء میں قادیان کے متصل دیانند اینگلو و یدک ہائی سکول کی گراؤنڈ میں انہوں نے ایک وسیع پیمانہ پر کا نفرنس منعقد کی جس میں سید عطا اللہ شاہ بخاری نے جماعت احمدیہ کے خلاف پانچ گھنٹے کی ایک نفرت آمیز تقریر کی۔اس تقریر کی بناء پر بخاری صاحب کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔جس کی سماعت کے دوران میں احرار پراپیگنڈا کی بناء پر عوام سادہ لوح کے جذبات اتنے برانگیچتے ہوئے کہ خود تقریر سے بھی نہ ہوئے ہوں گے۔وہ دن اور یہ دن ہر قابل ذکر احراری مقر راحمد یوں ان کے رہنماؤں اور ان کے عقیدوں کے خلاف ہر قسم کی باتیں کہتا رہا ہے۔۱۲۶ پاکستان بننے کے بعد بظاہر احراریوں کا مستقبل بالکل تاریک تھا کیونکہ متحدہ ہندوستان میں یہ کانگرس کے ہمنوا اور قیام پاکستان کے شدید مخالف تھے۔مگر جماعت احمدیہ کی مخالفت ایک ایسا حربہ ان کے ہاتھ میں تھا جس کے استعمال سے آہستہ آہستہ پھر انہیں مقبولیت حاصل ہونا شروع ہو گئی۔چنانچہ ہم ملک کے بعد احرار کا سب سے بڑا اجتماع ۱۲ جنوری سے لے کر ۱۴ جنوری ۱۹۴۹ء تک لاہور میں