لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 54
54 بھی بلا لیا جائے۔لوگ ان کے مواعظ حسنہ سے فائدہ اٹھائیں گے۔اس پر حضور نے حضرت مولوی صاحب کو بلایا۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت ! لوگ آپ کے مواعظ حسنہ سے مستفیض ہونا چاہتے ہیں۔کچھ فرمائیے۔اس پر آپ نے فرمایا۔ایک ہوتا ہے امیر اور وہ ہیں حضرت مرزا صاحب اور ایک ہوتا ہے مامور اور وہ میں ہوں اگر حضور مجھے حکم دیں تو میں حاضر ہوں ورنہ میں اگر دھت“ (یعنی خواہ مخواہ آگے آنے والا ) نہیں بننا چاہتا۔اس پر میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا۔حضور کی طرف سے اجازت آنے پر حضرت مولوی صاحب نے وعظ بیان کرنا شروع کر دیا۔۳۲ پانی ناپاک نہیں ہوا ۲۱ اگست ۱۹۰۴ء کے روز جب حضور ظہر کی نماز کے وقت باہر تشریف لائے تو نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد احباب جماعت نے درخواست کی کہ حضور کرسی پر تشریف فرما ہوں تا سب لوگ بآسانی حضور کی زیارت کرسکیں۔حضور نے خدام کی اس درخواست کو قبول فرما لیا اور کرسی پر تشریف فرما ہو کر حقائق و معارف سے لبریز ایک نہایت ہی لطیف تقریر فرمائی۔اس روز کا ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ چونکہ پنجاب کے اکثر ضلعوں میں سے کافی تعدا میں مرد اور عورتیں جمع ہو گئی تھیں۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ کثرت ہجوم کی وجہ سے پانی کے بڑے بڑے مشکے رکھے ہوئے تھے۔بعض دیہاتی عورتوں نے جو اپنے بچوں کے ہاتھ پاؤں دھونے کے لئے ان سے پانی لیا تو کسی نے شکایت کر دی کہ حضور عورتوں نے تو پانی ناپاک کر دیا ہے۔حضور بڑی متانت سے مٹکوں کی طرف تشریف لائے۔ایک ملکہ سے کچھ پانی لے کر پیا اور پھر فرمایا کہ پانی تو بڑا ٹھنڈا ہے۔گویا حضور نے خود اپنے عمل سے بتادیا کہ پانی ناپاک نہیں ہوا۔اگر نا پاک ہوتا تو میں کیوں پیتا۔۲۸ / اگست ۱۹۰۴ء کو صبح سات بجے حضور نے تو بہ ایمان اور نزول بلا کی فلاسفی پر ایک نہایت ہی ایمان افزا تقریر فرمائی۔حاضری سینکڑوں افراد پر مشتمل تھی۔بیرون جات کے بہت سے احباب نے بیعت بھی کی جو کثرت بیعت کنندگان کی وجہ سے پگڑیوں کے واسطہ سے کی گئی۔یہ امر خاص طور پر قابل