لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 53 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 53

53 ایک ایمان افروز روایت اس موقعہ پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایمان افروز روایت بیان کر دی جائے جو خاکسار نے ۱۹۳۹ء میں حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل اور حضرت با بو غلام محمد صاحب فورمین سے متعدد بارسنی تھی۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب حضور لاہور تشریف لائے تو ہم چند نوجوانوں نے یہ مشورہ کیا کہ دوسری قوموں کے بڑے بڑے لیڈر جب یہاں آتے ہیں تو ان کی قوموں کے نوجوان گھوڑوں کی بجائے خود ان کی گاڑیاں کھنچتے ہیں اور ہمیں جو لیڈر اللہ تعالیٰ نے دیا ہے یہ اتنا جلیل القدر ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔پس آج گھوڑوں کی بجائے ہمیں حضور کی گاڑی کھینچنی چاہئے۔چنانچہ ہم نے گاڑی والے کو کہا کہ اپنے گھوڑے الگ کر لو۔آج گاڑی ہم کھینچیں گے۔کوچوان نے ایسا ہی کیا۔جب حضور اسٹیشن سے باہر تشریف لائے تو گاڑی کو دیکھ کر فرمایا کہ گھوڑے کہاں ہیں ؟ ہم نے عرض کی کہ حضور دوسری قوموں کے لیڈ ر آتے ہیں تو ان کی قوم کے نوجوان ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں۔آج حضور کی گاڑی کھینچنے کا شرف ہم حاصل کریں گے۔حضرت نے یہ بات سن کر فرمایا۔فوراً گھوڑے جو تو۔ہم انسان کو حیوان بنانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے۔ہم تو حیوان کو انسان بنانے کے لئے آئے ہیں۔اسے خاکسار عرض کرتا ہے کہ خاکسار نے جب یہ روایت اپنی کتاب ”حیات طیبہ میں درج کی تھی۔اس وقت اس واقعہ کا سن بھول گیا تھا اور کوئی شخص اس کی تعیین بھی نہ کر سکا۔لیکن جب کتاب شائع ہو گئی تو گوجرانوالہ کے حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگرا جو ایک لمبا عرصہ تک لاہور میں قیام فرما رہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ۱۹۰۲ ء کا ہے جب حضور اگست میں گورداسپور سے تشریف لائے تھے۔اور میں بھی ان نوجوانوں میں شامل تھا۔جنہوں نے حضور کی گاڑی کھینچنے کا منصوبہ بنایا تھا۔حضور کے قیام کے لئے جماعت نے حضرت میاں معراج الدین صاحب عمرہ کا نیا مکان واقعہ بیرون دہلی دروازہ تجویز کیا ہوا تھا اور باقی مہمانوں کے لئے ساتھ ہی حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کا مکان۔حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگڈا یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ” میں نے حضور کی خدمت میں رقعہ لکھا تھا کہ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کو