لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 544
544 کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔استاذی المکرم حضرت مولا نا عبدالرحمن صاحب وہاں کے امیر ہیں اور سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب بھی خاندان مسیح موعود کی نمائندگی میں وہاں مقیم ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور قادیان کی آزادی کے جلد سے جلد سامان کرے۔آمین اب ذرا لا ہور میں حضور کی رہائش کا حال سنیئے۔حضور نے جب رتن باغ میں رہائش اختیار کی تو حکم دیا کہ رتن باغ کا سارا سامان محفوظ کر لیا جائے اور اس میں سے اپنی ذات کے لئے کچھ استعمال نہ کیا جائے بلکہ جو لوگ اس سامان کے اصل مالک ہیں اور گورداسپور جا چکے ہیں انہیں اطلاع دے دی جائے کہ اگر وہ اپنا سامان لے جاسکتے ہوں تو حکومت کی اجازت سے لے جائیں۔چنانچہ مجھے خوب یاد ہے تین دن ان کے ٹرک آتے رہے اور اپنا سامان لے جاتے رہے۔بعض احباب نے جن میں گورنمنٹ کے افسر بھی تھے حضور سے عرض بھی کی کہ حضور ! آپ کو اس سامان کے استعمال کا حق ہے آپ کیوں اسے استعمال نہیں کرتے۔مگر حضور نے فرمایا کہ اس کوٹھی والوں نے چونکہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا اس لئے ہم ان کا سامان استعمال نہیں کر سکتے۔باوجود اس کے کہ ان ایام میں حضور کی مالی حالت اچھی نہیں تھی حضور نے وہ ابتلا اور آزمائش کے دن بڑے صبر اور استقلال کے ساتھ گزارے۔تمام گھر والوں کو حکم تھا کہ ایک ایک روٹی سے زیادہ کوئی نہ کھائے۔چار پائیاں بھی نہیں تھیں۔فرش پر بچھانے کے لئے کمبل لنڈے بازار سے خریدے گئے تھے۔ایک مرتبہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجھے لکھا کہ مہمانوں کو چائے پیش کرنے کے لئے حضور کو دو ٹی سیٹوں کی ضرورت ہے مگر پانچ روپے میں دونوں ٹی سیٹ آ جانے چاہئیں۔چنانچہ حضور کے اس حکم کی تعمیل میں معمولی قسم کے دوٹی سیٹ خرید کر پیش کر دئیے گئے۔ایک ایمان افزا واقعہ اس موقعہ پر ایک ایمان افزا واقعہ کا ذکر ضروری ہے۔انہی ایام میں جب کہ سلسلہ کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔سلسلہ کے اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ایک لڑکا کہیں سے پھرتا