لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 543 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 543

543 وغیرہ کا انتظام کرتے۔اس موقعہ پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کی احمدی آبادی کے پاکستان میں منتقل ہونے کا بھی اختصاراً ذکر کر دیا جائے۔پیچھے ذکر ہو چکا ہے کہ ملک کے حالات کا جائزہ لینے اور اس امر پر غور کرنے کے بعد کہ حضور کا وجود ہندوستان اور پاکستان میں سے کس ملک میں زیادہ مفید ہوسکتا ہے، حضور پاکستان تشریف لے آئے تھے۔چنانچہ یہاں پہنچتے ہی حضور نے قادیان کی آبادی کے انخلاء کے لئے کنوائے بھجوانے شروع کر دیئے۔سب سے زیادہ فکر حضور کو عورتوں اور بچوں کی تھی۔حضور نے ان کو لانے کے لئے یہاں سے ایک بہت بڑا کنوائے بھیجا۔جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں عورتیں اور بعض بزرگ ہستیاں یہاں پہنچ گئیں۔مجھے یاد ہے۔۲۵۔ستمبر ۱۹۴۷ء کا دن تھا۔اس روز اندازے کے مطابق جب کنوائے یہاں نہ پہنچا تو حضور نے ہوائی جہاز بھجوا کر پتہ منگوایا کہ قافلہ کہاں ہے؟ جب پتہ لگا کہ قافلہ آ رہا ہے تو بھی حضور کی گھبراہٹ میں کچھ کمی نظر نہ آتی تھی۔حضور کے لئے بغیر کسی سہارے کے چلنا پھرنا محال ہو گیا تھا۔جب قافلہ پہنچ گیا تو حضور کو اطمینان ہوا۔اور حضور سجدہ شکر بجالائے۔اسی طرح متفرق اوقات میں بھی متعدد کنوائے قادیان گئے جو احمدیوں کو وہاں سے پاکستان لے آئے بلکہ ساٹھ ستر ہزار غیر احمدی جو وہاں آس پاس کے علاقوں سے جمع ہو گئے تھے انہیں بھی بحفاظت لانے کیلئے حضور فکرمند تھے اور انہیں پیغام بھی بھجوا دیا تھا کہ آپ کو بھی بحفاظت لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی مگر افسوس کہ وہ سکھوں کے دھو کے میں آگئے اور پیدل چل پڑے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سینکڑوں راستے میں ہی موت کے گھات اتار دیئے گئے۔انالله ونا اليه راجعون۔و بہر حال احمدی آبادی پاکستان میں پہنچ گئی اور حضور کے ارشاد کے مطابق ۳۱۳۔افراد قادیان کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے پیچھے رہ گئے اور کچھ عرصہ تک ان میں بھی تبادلہ ہوتا رہا۔مگر پھر انڈین یونین نے اسے بند کر وا دیا اور جو تین سو تیرہ افراد وہاں رہ گئے وہی وہاں رہے۔البتہ جب کچھ عرصہ کے بعد امن قائم ہو گیا تو آہستہ آہستہ ہندوستان سے بھی کچھ گھرانے آ کر آباد ہو گئے۔اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں درویشوں کی تعداد سات آٹھ سو کے لگ بھگ ہے اور وہ خوب تندہی سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔جلسہ سالانہ بھی بڑی دھوم دھام سے ہوتا ہے۔اور دفاتر بھی با قاعدگی